علامہ میر حامد حسین لکھنوی بین الاقوامی کانگریس کے لیے لکھے گئےمقالات کے موضوعات
۱: علامہ میر حسین کی شخصیت اور ان کا دور
۱۔۱: خاندان عبقات ،نیز اخلاقی ،ثقافتی، اقتصادی اور معاشرتی زاویوں سے اس خاندان کی خصوصیات۔
۱۔۱۔۱ : بر صغیر میں خاندان عبقات کا حسب و نسب اور معاشرتی مقام ۔(محمد قلی، اعجاز حسین، حامد حسین، ناصر ملت، سعید الملت اور دیگر۔۔۔۔)
۲۔۱۔۱۔ کاندان عبقات کے شجرۂ نسب کا جائزہ
۳۔۱۔۱ : علامہ میر حامد حسین کے اساتید نیز علامہ کی شخصیت اور آثارمیں ان کے اثرات(مفتی محمد قلی،سلطان العلماء، سید العلماء، ممتاز العلماء، مفتی محمد عباس اور دیگر۔۔)
۴۔۱۔۱ : خاندان عبقات کی اقتصادی اور معاشی صورتحال اور ان کی علمی و ثقافتی کوششوں میں اس کی تاثیر۔
۵۔۱۔۱ : علامہ میر حامد حسین کی فردی اور معاشرتی سیرت (اخلاقی و معنوی سیرت نیز سماجی اور خاندانی تعامل میں ان کی سیرت۔)
۶۔۱۔۱ : حج اور زیارت کے سفر میں علامہ میر حامد حسین کی علمی سرگرمیاں (علامہ کے ساتھ ملاقاتیں ، کتابوں کی خریداری،مکہ و مدینہ اور دیگر شہروں کے کتابخانوں میں موجود کتابوں سے ضروری یاداشتوں کی جمع آوری)
۲۔۱ : تحفہ اثنا عشریہ نامی کتاب کے تفرقہ انگیز اور اسلام دشمن اثرات کے مقابلے میں علامہ کا کردار
۱۔۲۔۱ : برصغیر میں اسلامی مذاہب کے باہمی روابط کے اندر رونما ہونے والے تحولا ت میں مکتب دہلی کی سرگرمیوں کا کردار اور دیگر سلفی تحریکوں کے ساتھ اس کا ربط۔
۲۔۲۔۱ : نصر اللہ کابلی کی کتاب الصواعق الموبقہ کا ذکر اور تحفہ اثنا عشریہ کے ساتھ اس کا موازنہ
۳۔۲۔۱ : تحفہ اثنا عشریہ کے بعد لکھی جانے والی سنی کتابوں پر تحفہ اثنا عشریہ کے اثرات
۴۔۲۔۱ :تحفہ اثنا عشریہ کی تالیف کے عوامل اور مقاصد نیز اس کتاب کے معاشرتی ، سیاسی اور ثقافتی عواقب و اثرات ۔
۵۔۲۔۱۔ : کتاب المنحۃ الالہیہ کا تحفہ اثنا عشریہ کے ساتھ ربط ، اہل سنت کے اعتقادی مباحث میں اس کی حیثیت اور اس کے مقابلے میں شیعہ علماء کارد عمل ۔
۶۔۲۔۱ : تحفہ اثنا عشریہ کی رد میں لکھی جانے والی کتابیں اور ان کا باہمی ربط۔
۷۔۲۔۱ : تحفہ اثنا عشریہ کے ساتویں باب کی رد میں لکھی جانے والی تحریریں اور ان کی باہمی نسبت۔
۸۔۲۔۱ : نظریہ امامت بر مبنی ثقافت کے احیاء میں علامہ کے آثار کی تاثیر ۔
۹۔۲۔ ۱ : دہلی کے سلفی مکتب فکر کی شیعہ مخالف سرگرمیوں کو ناکام بنانے میں علامہ کے علمی آثار کا کردار۔
۱۰۔ ۲۔ ۱ : عبقات الانوار کی نشر و اشاعت کے مقابلے میں علمائے اہل سنت کا رد عمل (گزشتہ سے اب تک )
۳۔۱ : حوزیہ علمیہ لکھنو کے دور عروج میں ہندوستان، نجف اور ایران کے حوزہائے علمیہ کے باہمی روابط۔
۱۔۳۔۱ :ہندوستان اور نجف کے علمی مراکز کے علمی تعاملات و روابط اور علمی آثار کی تقویت میں ان تعاملات کا کردار۔
۲۔۳۔۱ :ہندوستان اور ایران کے دینی مراکز کے باہمی تعاملات اور علمی آثار کی تقویت میں ان کی تاثیر ۔
۳۔۳۔ ۱ : ہندوستان اور عراق کے دینی علمی مراکز کے باہمی معاشرتی اور ثقافتی روابط۔
۴۔۳۔۱ :شاہان اودھ کے دور میں لکھنو کے دیگر اسلامی شہروں اور ممالک کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی روابط۔
۴۔۱ : ہندوستان میں بارھویں صدی ہجری سے لے کر چودھویں صدی تک کی شیعہ وسنی شخصیات اور تحریکوں کا تعارف اور ان کے باہمی تعاملات وروابط کی مختلف جہات ۔
۱۔۴۔۱ : دہلی کے اعتقادی و کلامی مکتب فکر کی خصوصیات
۲۔۴۔۱ : لکھنؤ کے اعتقادی و کلامی مکتب فکر کی خصوصیات
۳۔۴۔۱ : بارھویں تا چودھویں صدی ہجری کے دوران ہندوستان میں انتہا پسند سلفی تحریکوں کے ظہور کے اسباب و عوامل
۴۔۴۔۱ : علامہ میر حامد حسین کے دور میں ہندوستان کے اندر شیعہ اور سنی مذہبی تحریکوں کے تعاملات و روابط میں استعماری حکومتوں کا کردار ۔
۵۔۴۔۱ : مذہبی تحریکوں کے ظہور میں گیارھویں اور بارھویں صدی ہجری کے ہندوستان کی اسلامی حکومتوں کی تاثیر اور دینی و ثقافتی تعاملات و روابط میں ان کا کردار ۔
۶۔۴۔۱ : بارھویں سے چودھویں صدی ہجری کے دوران ہندوستان کی نمایاں سنی تحریکوں اور شخصیات کا تذکرہ۔
۷۔۴۔۱ : بارھویں سے چودھویں صدی ہجری کے دوران ہندوستان کی نمایاں شیعہ تحریکوں اور شخصیات کا تذکرہ۔
۸۔۴۔۱ : علامہ میر حامد حسین کے دور میں عالم اسلام کی مذہبی و جغرافیائی صورتحال کا جائزہ ۔
۵۔۱ : حکمرانان ِ اودھ کے ہاں شیعہ علماء اور دانشوروں کا مقام نیز برصغیر میں مکتب تشیع کے پھیلاؤ میں اس کی تاثیر۔
۱۔۵۔۱ : ہندوستان میں شیعی معاشرے کی تاسیس و ترویج میں حکمرانان ِاودھ کا کردار ۔
۲۔۵۔۱ : اودھ کی شیعی حکومت اور ایران کےصفوی شیعی حکومت کے باہمی روابط و تعاملات۔
۳۔۵۔۱ : مکتب ِلکھنؤ کی علمی و ثقافتی سرگرمیوں پر حکومتِ اودھ کے زوال کے اثرات ۔
۴۔۵۔۱ : لکھنؤ (ہندوستان) میں دین و سیاست کے باہمی تعاملات
۵۔۵۔۱ : خاندانِ اجتہاد کی سیاسی/ فکری صورتحال اور سلاطین اودھ کےساتھ ان کے روابط میں اس کی تاثیر۔
۶۔۵۔۱ :حکمرانوں کے ہاں خاندانِ عبقات کا مرتبہ و مقام نیز برصغیر میں تشیع کی ترویج و حفاظت میں ان کا کردار ۔
۲ : علامہ میر حامد حسین کے علمی آثار
۱۔۲ : امامت سے مربوط نمایاں تحقیقی آثار کے ساتھ عبقات الانوار کا تطبیقی موازنہ ۔
۱۔۱۔۲ : قاضی نور اللہ سوشتری کی کتاب احقاق الحق کا عبقات الانوار کے ساتھ تطبیقی موازنہ ۔
۲۔۱۔۲۔ : عبقات الانوار کا علامہ شرف الدین کی کتاب المراجعات کے ساتھ تطبیقی موازنہ ۔
۳۔۱۔۲ : عبقات الانوار کا علامہ امینی کی کتاب الغدیر کے ساتھ تطبیقی موازنہ۔
۴۔۱۔۲ : علامہ حلی کی نہج الحق اور علامہ مظفر کی دلائل الصدق کے ساتھ عبقات الانوار کا تطبیقی موازنہ۔
۲۔۲ : علامہ میر حامد حسین کے علمی آثار کے ان کے بعد امامت کے بارے میں ہونے والی تحقیقی کوششوں پر اثرات۔
۳۔۲ : تحفہ اثنا عشریہ اور اس کے جوابات کا تحلیلی تعارف ۔
۴۔۲ : تحفہ اثنا عشریہ کے دیگر جوابات کا عبقات الانوار کے ساتھ تطبیقی موازنہ ۔
۵۔۲ : کمیت اور کیفیت کے زاویے سے علامہ میر حامد حسین کے آثار خاص کر عبقات الانوارکے مآخذ و مصادر کا تحلیلی اور تحقیقی جائزہ۔
۶۔۲ : کتاب استقصاء الافحام کا تعارف نیز مکتب تشیع کے بارے میں تحقیق اور اس کے دفاع میں اس کتاب کا کردار ۔
۷۔۲ : علامہ میر حامد حسین کے والد مفتی محمد قلی کے علمی آثار کی تکمیل و تصحیح میں علامہ کا کردار ۔
۸۔۲ : علامہ کے فقہی ،اعتقادی ،قرآنی ، رجالی اور حدیثی رسالوں اور قلمی تحریروں کا تعارف اور ان کا نئے سرے سے جائزہ ۔
۹۔۲ : علامہ کی تالیفات میں پیشرو علماء کے علمی آثار کا کردار ۔
۱۰۔۲ :کتاب خانہ ناصریہ اور اس کا علمی اور و ثقافتی مقام ۔
۳ : علامہ میر حامد حسین رحمہ اللہ کے مناہج و اسالیب (Methodology)
۱۔۳ : کلامی و مناظراتی اسلوب اور جواب گوئی کا منہج۔
۱۔۱۔۳ : دینی معارف کے مآخذ و منابع علامہ میر حامد حسین کے نقطہ نظر سے ۔
۲۔۱۔۳ : علامہ میر حامد حسین کا اعتقادی مباحث میں سابقہ ادیان کی کتابو ں سے استفادے کا منہج ۔
۳۔۱۔۳ : سوالات و اعتراضات کا نقضی جواب دینے میں علامہ کے اسالیب۔
۴۔۱۔۳ : علامہ کے آثار میں شبہات واعتراضات کا اطمینان بخش جواب دینے کے اسالیب ۔
۵۔۱۔۳ : اعتراضات کے جوابات دیتے وقت قیاس و برہان سے استفادہ کرنے کے طریقے۔
۶۔۱۔۳ : شبہات واعتراضات کی متنی تحلیل میں علامہ کے اسالیب ۔
۷۔۱۔ ۳ : علامہ کے آثار کی روشنی میں شبہہ شناسی کی اہمیت ۔
۸۔۱۔ ۳ : فریق مخالف کے ساتھ مناظرے میں قاعدہ الزام کی جہات وشرائط۔
۹۔۱۔۳۔ : اعتقادی وکلامی اسالیب میں میر حامد حسین کی جدت طرازیاں۔
۲۔۳ : جعلی احادیث کے نقد کا اسلوب
۲۔۲۔۳ : احادیث کی سند کے تنقیدی جائزے کی روش ۔
۳۔۲۔۳ : اختلافی راویوں میں راوی کے ضعف کی ترجیح کا اسلوب ۔
۴۔۲۔۳ : جعلی احادیث کے مضامین پر تنقید میں علامہ کا منہج ۔
۵۔۲۔۳ : جعلی احادیث پر نقد کے منہج میں علامہ کی جدت طرازیاں۔
۳۔۳ : رجالی منہج اور احادیث کی جانچ پرکھ کا اسلوب ۔
۱۔۳۔۳ : شیعہ رجال (راویوں) کے بارے میں علامہ میر حامد حسین کے تنقیدی اصول۔
۲۔۳۔۳ : علامہ میر حامد حسین کے رجالی نظریات ۔
۳۔۳۔۳ : علامہ میر حامد حسین کے آثار میں اہل سنت کے مآخذِ حدیث کی وثاقت کی بحث ۔
۴۔۳۔۳ : علامہ میر حامد حسین کی نگاہ میں شیعہ احادیث کی وثاقت اور مخالف نظریات کی تنقید کا اسلوب ۔
۵۔۳۔۳ :احادیث کی توثیق کے میدان میں اہل سنت کے تعصب آمیز دوغلے معیارات ۔
۶۔۳۔۳ : اہل سنت کے ہاتھوں احادیث میں تحریف کی وجوہات۔
۷۔۳۔۳ : علامہ میر حامد حسین کے آثار میں اہل سنت کے غلو آمیز اور انتہا پسندانہ نظریات کی عکاسی۔
۸۔۳۔۳ : معنوی ربط کی بنیاد پر احادیث کی توثیق کے بارے میں علامہ کا منہج۔
۹۔۳۔۳ : کتب احادیث کی وثاقت کے اثبات کے بارے میں علامہ کا اسلوب ۔
۱۱۔۳۔۳ : مشہور احادیث کی ماخذ شناسی میں علامہ کا منہج ۔
۱۲۔۳۔۳ : احادیث حسان کے اثبات میں علامہ کی تحقیقی روش ۔
۱۳۔۳۔۳ : احادیث کے تواتر کے اثبات میں علامہ کا منہج ۔
۱۴۔۳۔۳ : خبر واحد کی درستی کے اثبات میں علامہ کی روش ۔
۱۵۔۳۔۳ : راویان حدیث کی توثیق میں علامہ کا تحقیقی اسلوب ۔
۱۶۔۳۔۳۔ اختلافی راویوں میں سے کسی راوی کی توثیق میں علامہ کی علمی روش
۱۷۔۳۔۳ :علامہ میر حامد حسین کے آثار میں شیعہ و سنی احادیث کی تاریخ کا تذکرہ۔
۱۸۔۳۔۳ : رجالی اسلوب شناسی میں میر حامد حسین کی جدت طرازیاں ۔
۴۔۳ : فقہ الحدیث (حدیث فہمی) کا منہج
۱۔۴۔۳ : علامہ میر حامد حسین کے ہاں فقہ الحدیث (حدیث فہمی)کے بنیادی اصول۔
۲۔۴۔ ۳ : علامہ کے منہج میں فہم حدیث میں تشبیہ اور وجہ شبہ کی تحقیق کا کردار۔
۳۔۴۔۳ : حدیث کو سمجھنے میں “سبب صدور” کے کردار میں علامہ کا منہج ۔
۴۔۴۔۳ : اثبات امامت میں متحد الموضوع احادیث سے استفادہ کرنے میں علامہ کا اسلوب ۔
۵۔۴۔۳ : اثباب امامت میں فہم صحابہ سے استفادہ کرنے میں علامہ کا اسلوب ۔
۶۔۴۔۳ : علامہ کے ہاں امامت کے اثبات میں سنی دانشوروں کے فہم سے استفادہ کرنے کا اسلوب ۔
۷۔۴۔۳ : آیات کو سمجھنے میں احادیث سے استفادہ کرنے کی روش ۔
۸۔۴۔۳ : علامہ کے ہاں قرآنی آیات سے استفادہ کرنے کا اسلوب ۔
۹۔۴۔۳ : علامہ کے ہاں اثباتِ امامت میں احادیث کے معنوی ارتباط سے استفادے کی روش ۔
۱۰۔۴۔ ۳ : علامہ میر حامد حسین کے ہاں فہم احادیث میں ادبی مباحث کا استعمال ۔
۱۱۔۴۔۳ : حدیث فہمی کے مناہج میں میر حامد حسین کی جدت طرازیاں ۔
۵۔۳ : تفسیری اسالیب(Methodology)
۱۔۵۔۳ : تفاسیر اور مفسرین کو جانچنے کی روش علامہ کی نظر میں (فخر رازی ،زمحشری،آلوسی، سیوطی وغیرہ )
۲۔۵۔۳ : علامہ کی نظر میں قرآن کی تفسیر پذیری ۔
۳۔۵۔۳ : تحریف قرآن اور تاویل سے مربوط احادیث کے بارے میں علامہ کا طرز عمل ۔
۴۔۵۔ ۳ : قرآن کی جمع آوری کے بارے میں علامہ میر حامد حسین کا نقطہ نظر ۔
۵۔۵۔۳ : علامہ میر حامد حسین کے تفسیری اصول و مبانی نیز تفسیرمیں موصوف کے کلامی اصول و مبانی ۔
۶۔۵۔۳ : محکم و متشابہ علامہ میر حامد حسین کی نگاہ میں ،نیز دوسروں کی آراءکے ساتھ اس کا موازنہ ۔
۷۔۵۔۳ : قرآنی الفاظ کی تحقیق اور دلالت کی پہچان کے لئے قرائن سے استفادہ کرنے میں علامہ کی علمی روش ۔
۸۔۵۔ ۳ : قرآنی الفاط کی مفہوم شناسی میں علامہ کا منہج ۔
۹۔۵۔ ۳ : قرآن وحدیث کے متون کو سمجھنےمیں ادب اور بلاغت کا کردار علامہ کی نظر میں۔
۱۰۔۵۔ ۳ :علامہ میر حامد حسین کے تفسیری اسلوب میں شان نزول اور اسباب نزول کی حیثیت ۔
۱۱۔۵۔۳ : تفسیری اسالیب (methodology) میں علامہ میر حامد حسین کی جدت طرازیاں ۔
۱۲۔۵۔۳ : علامہ کے ہاں فہم قرآن میں اہل بیت علیہم السلام کا کردار ۔
۱۳۔۵۔۳ : ظواہر قرآن کے حجت ہونے کے بارے میں علامہ کا نقطہ نظر ۔
۱۴۔۵۔۳ : قرآن مجید کے ناسخ ومنسوخ کے بارے میں علامہ کا نظریہ ۔
۱۵۔۵۔۳ : تحریف قرآن : علامہ کی نگاہ میں۔
۱۶۔۵۔۳ : راویوں کے جرح وتعدیل میں مذہب کے کردار کے بارے میں علامہ کا نقطہ نظر۔
۶۔۳ : تاریخ میں تحقیق کی روش
۱۔۶۔۳ : علامہ کی تاریخی تحقیقات میں قرآن کا کردار ۔
۲۔۶۔۳ :علامہ کی تاریخی تحقیقات میں احادیث کا کردار ۔
۳۔۶۔ ۳ : علامہ کی تاریخی تحقیقات میں عقل کا کردار ۔
۴۔۶۔۳ : علامہ کے بعد کے علمی آثار پر موصوف کے تاریخی نظریات کے اثرات ۔
۵۔۶۔۳ : کتب تاریخ اور ان کے مولفین علامہ کی نگاہ میں ۔
۶۔۶۔۳ : تاریخ شناسی کے اسالیب میں میر حامد حسین کی جدت طرازیاں۔
۷۔۳ : علامہ کی شخصیت شناسی اور مأخذ شناسی
۱۔۷۔۳ : اہل بیت اور ائمہ اطہار علیہم السلام کا مرتبہ اور مقام ۔
۲۔۷۔۳ : اہل سنت کی علمی شخصیات مثلا ابوحنیفہ اور جاحظ وغیرہ۔
۳۔۷۔۳ : صحیح مسلم کے بارے میں علامہ کا نقطہ نظر۔
۴۔۷۔۳ : صحیح بخاری کے بارے میں علامہ کے نظریات ۔
۵۔۷۔۳ : صحاح ستہ علامہ کی نظر میں ۔
۶۔۷۔۳ : امام مالک کی الموطا کے بارے میں علامہ کا نقطہ نظر ۔
۷۔۷۔۳ : ابن جوزی کے الموضوعات کے بارے میں علامہ کے نظریات۔
۸۔۷۔۳ : دیگر اہم آثار اور شخصیات۔
۸۔۳ : علامہ میر حامد حسین کے آثار میں ادب اور سبک شناسی(اسلوب شناسیstylistics) کا جائزہ
9۔ ۳ :معاصر معاشرے کے لئے عبقات الانوار کو زیادہ کار آمد بنانے کی تجاویز ۔
۴ : علامہ میر حامد حسین کے افکار و نظریات
۱۔۴ : توحیدی افکار و نظریات ۔
۱۔۱۔۴ : علامہ کی نگاہ میں شرک کی نفی اور توحید کے اثبات کے دلائل ۔
۲۔۱۔۴ : کفر اور ایمان کے معیارات علامہ کی نگاہ میں ۔
۳۔۱۔۴ : تشیع اور اہل سنت کے ہاں نظریہ تجسم کا جائزہ علامہ کے آثار میں ۔
۴۔۱۔۴ : عدل الہی علامہ میر حامد حسین کی نگاہ میں ۔
۵۔۱۔۴ : بداء کے بارے میں علامہ کا نقطہ نظر ۔
۲۔۴ : پیغمبر شناسی
۱۔۲۔ ۴ : علامہ کی نظر میں عصمت انبیاء کی جہات اور حدود۔
۲۔۲۔۴ : حجت الہی کی حقانیت کے اثبات میں معجزے کا کردار۔
۳۔۲۔۴ : نبوت اور امامت کی باہمی نسبت اور اطاعت کا وجوب علامہ کی نظر میں ۔
۳۔۴ :امامتِ عامہ
۱۔۳۔۴ : امامت اور اس سے مربوط الفاظ کا مفہوم علامہ کے آثار میں۔
۲۔۳۔۴ : امامت اور ولایت کی حقیقت اور حدود علامہ کے نقطہ نظر سے ۔
۳۔۳۔۴ : میر حامد حسین کی نگاہ میں امامت کی ضرورت ۔
۴۔۳۔۴ : میر حامد حسین کی نگاہ میں امامت کی اصالت ۔
۵۔۳۔۴ : علامہ کی نگاہ میں تعیین امام کی راہیں اور نص کا مقام ۔
۶۔۳۔۴ : اہل بیت کی دینی مرجعیت اور اس کی جہات علامہ کی نگاہ میں ۔
۷۔۳۔۴ : امامت بالقوۃ اور امامت بالفعل کے ساتھ شرائط امامت کا تعلق علامہ کی نگاہ میں ۔
۸۔۳۔۴ :امام کی افضیلت کا مفہوم اور اس کے معیارات اور اس کی ضرورت علامہ میر حامد کی نگاہ میں ۔
۹۔۳۔۴ :امام کی اعلمیت کے مفہوم اور اس کی ضرورت کے بارے میں علامہ کا نظریہ ۔
۱۰۔۳۔۴ :امیر المومنین ع اور رسول اللہ ص کی مماثلت اور امامت میں اس کے رول کے بارے میں علامہ کا نظریہ۔
۱۱۔۳۔۴ : حسنین علیہما السلام کی امامت علامہ کے نقطہ نگاہ سے ۔
۱۲۔۳۔۴ :علامہ کے آثار میں امامت سے مربوط مباحث کے جائزے میں اخلاقی افکار سے استفادہ ۔
۱۳۔۳۔۴ :عصمت کے دلائل اور حدود علامہ کی نگاہ میں ۔
۱۴۔۳۔۴ :اہل بیت کی عصمت کی زمانی حدود اور آیت تطہیر کے نزول کے ساتھ اس کا ربط ۔
۱۵۔۳۔۴ :علم امام اور اس کی مختلف جہات کے بارے میں علامہ کا نقطہ نگاہ ۔
۱۶۔۳۔۴ :تبرا اور اظہار برائت کے بارے میں علامہ کا نقطہ نگاہ (مفہوم ،ضرورت ،مصادیق اور استعمالات )
۱۷۔۳۔۴ :تقیہ کا مفہوم اور اس کی بنیادیں علامہ کی نگاہ میں۔
۱۸۔۳۔۴ :اتحاد امت کے بارے میں علامہ کا نقطہ نظر ۔
۱۹۔۳۔۴ : حدیث اصحابی کالنجوم کےبارے میں علامہ کا تنقیدی و تحقیقی نقطہ نظر۔
۲۰۔۳۔۴ : ناصبیت کی حقیقت اوراس کے شرائط علامہ کی نگاہ میں ۔
۲۱۔۳۔۴ : حب اہل بیت کے بارے میں دہلوی کے دعوے کے بارے میں علامہ کا تنقیدی جائزہ۔
۲۲۔۳۔۴ : عدالت صحابہ کے بارے میں علامہ کا نقطہ نگاہ ۔
۲۳۔۳۔۴ :معارف نبوی کو منتقل کرنے میں صحابہ کے کردار کے بارے میں علامہ کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔
۲۴۔۳۔۴ : اہل سنت کے تعصب آمیز افکار اور ان کے عواقب کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ۔
۲۵۔۳۔۴ : ائمہ اثنا عشر کے مصادیق کا تحقیقی جائزہ علامہ کے آثار میں ۔
۲۶۔۳۔۴ : علامہ کی نگاہ میں امام کی دینی اور سیاسی ذمہ داریاں ۔
۲۷۔۳۔۴ :مسائل امامت میں ابنِ روزبہان کی آراء کے بارے میں علامہ کا تنقیدی نقطہ نظر ۔
۲۸۔۳۔۴ : مسائل امامت میں جاحظ کی آراء کے بارے میں علامہ کا تنقیدی نقطہ نظر ۔
۲۹۔۳۔۴ : مسائل امامت کے بارے میں اعور واسطی کی آراء اور علامہ کا تنقیدی نقطہ نظر ۔
۳۰۔۳۔۴ : مسائل امامت کے بارے میں فخر رازی کی آراء کے بارے میں علامہ کا تنقیدی نقطہ نظر۔
۳۱۔۳۔۴ : مسائل امامت کے بارے میں ابن تیمیہ کی آراء کے بارے میں علامہ کا تنقیدی نقطہ نظر۔
۳۲۔۳۔۴ : مہدویت اور اس کے دلائل علامہ میر حامد حسین کی نگاہ میں ۔
۳۳۔۳۔۴ : اہل بیت کے ساتھ محبت کے دعوائے اہل سنت کا تنقیدی جائزہ ۔
۳۴۔۳۔۴ : دلائل امامت کا باطنی بیانیہ علامہ کی تنقیدی و تحقیقی نگاہ میں (حدیث غدیر اور حدیث سفینہ وغیرہ)
۴ ۔۴ : امامتِ خاصہ کے دلائل
۱۔۴۔۴ : آیت ولایت کا بیان اور امور امامت کے اثبات میں اس کا کردار ۔
۲۔۴۔۴ : آیت تطہیر کا بیان اور امور امامت کے اثبات میں اس کا کردار ۔
۳۔۴۔۴ : آیت مباھلہ کا بیان اور امور امامت کے اثبات میں اس کا کردار ۔
۴۔۴۔۴ : آیت مودت کا بیان اور امور امامت کے اثبات میں اس کا کردار ۔
۵۔۴۔۴ : آیت مسئولون کا بیان اور امور امامت کے اثبات میں اس کا کردار ۔
۶۔۴۔۴ : آیت سابقون کا بیان اور امور امامت کے اثبات میں اس کا کردار ۔
۷۔۴۔۴ : آیات غدیر کا بیان اور امور امامت کے اثبات میں اس کا کردار ۔
۸۔۴۔۴ : حکومتِ طالوت سے مربوط آیات کا بیان اور امورِ امامت کے اثبات میں ان کا کردار ۔
۹۔۴۔۴ :النبی اولی بالمومنین کی آیت کا بیان اور امور امامت کے اثبات میں اس کا کردار ۔
۱۰۔۴۔۴ : آیت ان اکرمکم عند اللہ کا بیان اور امور امامت کے اثبات میں اس کا کردار ۔
۱۱۔۴۔۴ : انما انت منذر کی آیت کا بیان اور امور امامت کے اثبات میں اس کا کردار ۔
۱۲۔۴۔۴ : آیات امامت کی تحقیق میں علامہ کے ابتکاری نظریات ۔
۱۳۔۴۔۴ : احادیث امامت کی تحقیق میں علامہ کی جدت طرازیاں(نئے تحقیقی نظریات)
۱۴۔۴۔۴ : امامت سے مربوط امور کے اثبات میں حدیث غدیر کا کردار ۔
۱۵۔۴۔۴ : امامت سے مربوط امور کے اثبات میں حدیث ثقلین کا کردار ۔
۱۶۔۴۔۴ : امامت سے مربوط امور کے اثبات میں حدیث سفینہ کا کردار ۔
۱۷۔۴۔۴ : امامت سے مربوط امور کے اثبات میں حدیث تشبیہ کا کردار ۔
۱۸۔۴۔۴ : امامت سے مربوط امور کے اثبات میں حدیث نور کا کردار ۔
۱۹۔۴۔۴ : امامت سے مربوط امور کے اثبات میں حدیث مدینہ العلم کا کردار ۔
۲۰۔۴۔۴ : امامت سے مربوط امور کے اثبات میں حدیث ولایت کا کردار ۔
۲۱۔۴۔۴ : امامت سے مربوط امور کے اثبات میں حدیث منزلت کا کردار ۔
۲۲۔۴۔۴ : حدیث طیرکا بیان اور مسائل امامت کے اثبات میں اس کا کردار ۔
۲۳۔۴۔۴ : حدیث ”علی مع الحق” کا بیان اور مسائل امامت کے اثبات میں اس کا کردار ۔
۲۴۔۴۔۴ : حدیث خیبر کا بیان اور مسائل امامت کے اثبات میں اس کا کردار ۔
۲۵۔۴۔۴ : حدیث مناصبہ کا بیان اور مسائل امامت کے اثبات میں اس کا کردار ۔
۲۶۔۴۔۴ : حدیث ”تقتلک الفئۃ الباغیۃ ” کا بیان اور مسائل امامت کے اثبات میں اس کا کردار ۔
۵۔۴۔ :قرآن وحدیث کے بارے میں علامہ کے نظریات
۱۔۵۔۴ :معارف کی بحث میں عقل اور وحی کا مقام علامہ کی نگاہ میں ۔
۲۔۵۔۴ :قرآن کی جمع آوری نیز آیات اور سورتوں کی ترتیب علامہ کی نظر میں ۔
۳۔۵۔۴ : اعجاز قرآن اور اس کے دلائل کے بارے میں علامہ کا نظریہ۔
۶۔۴ : علامہ کے اعتقادی و کلامی نظریات
۱۔۶۔۴ : قاعدہ لطف کی جہات اور اعتقادیات میں اس کا رول علامہ کے آثار میں ۔
۲۔۶۔۴ :علامہ کے آثار میں قاعدہ ”ترجیح بلا مرجح” کی جہات اور اس کا کردار۔
۳۔۶۔۴ :علامہ میر حامد حسین کی نظر میں ”اتمام حجت”اور اس کی جہات ۔
۴۔۶۔۴ : قاعدہ”حسن و قبح عقلی”کی جہات اور عقائد میں اس کا کردار علامہ کے آثارمیں۔
۷۔۴ :علمِ فقہ اور اصول فقہ کا علم امامت کے ساتھ تعلق ، علامہ میر حامد حسین کی نظر میں۔
۱۔۷۔۴ :اشتراک لفظی اور اشتراک معنوی کا بیان اور مسائل امامت میں اس دونوں کی تاثیر علامہ کی نگاہ میں ۔
۲۔۷۔۴ :فہم عرف کا بیان اور مسائل امامت کے حل میں اس کا کردار علامہ کی نگاہ میں ۔
۳۔۷۔۴ :تبادر کا بیان اور مسائل امامت کے حل میں اس کا کردار علامہ کے نقطہ نگاہ سے ۔
۴۔۷۔۴ :عام و خاص اور مسائل امامت میں ان سے استفادہ علامہ کی نظر میں۔
۵۔۷۔۴ :مباحث امامت میں استثناء اور استفادۂ عام کے ساتھ اس کی نسبت کی درستی علامہ کی نگاہ میں ۔
۶۔۷۔۴ :مطلق و مقید کا بیان اور مسائل امامت کے حل میں ان کی تاثیر۔
۷۔۷۔۴ :نص و ظاہر کا بیان اور مسائل امامت کے حل میں ان کا کردار۔
۸۔۷۔۴ :سیاق متن کا بیان اور مسائل امامت کے حل میں اس کا کردار علامہ کی نگاہ میں۔
۹۔۷۔۴ :خبر واحد کی حجیت کا بیان اورمباحث امامت میں اس کی افادیت۔