سوانحی خاکہ: علامہ سید میر حامد حسین لکھنوی (قدس سرہ)
فہرست عنوانات (سریع رسائی):
بسم الله الرحمن الرحیم
مختصر تعارف علامہ میر حامد حسین (صاحب عبقات الانوار) رحمہ اللہ
نام و نسب
فردوس مآب، سید مہدی، مکنّٰی بہ ابو الظفر، معروف بہ میر حامد حسین (۱۲۴۶ھ – ۱۳۰۶ھ)، علامہ مفتی محمد قلی (۱۱۸۸ھ – ۱۲۶۰ھ) کے تیسرے فرزند ارجمند ہیں۔ آپ کا خاندان نیشاپور کے ساداتِ موسوی سے تعلق رکھتا ہے اور آپ کا سلسلۂ نسب امامزادہ سید محمد محروق کے واسطے سے امام ہفتم حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔
میر حامد حسین جن کی اصل نیشاپور اور جائے پیدائش خود ان کی اور ان کے آباء و اجداد کی ہندوستان کا شہر لکھنؤ تھی، عصر حاضر میں ثقافتِ امامت کے عظیم احیاء گر، بالغ نظر متتبع، انتھک اور مجاہد عالم شمار ہوتے ہیں؛ جن کے بلند علمی مرتبے کی توصیف میں اکابر علماء و فقہاء کی جانب سے نہایت وقیع اور اعلیٰ تعبیرات نقل ہوئی ہیں۔ «آیت الله فی العالمین، حجت الاسلام والمسلمین، لسان الفقہاء والمجتہدین، ترجمان الحکماء والمتکلمین، علامۃ العصر اور سید المجاہدین» جیسے اوصاف ان القابات کا محض ایک حصہ ہیں جو مفکرین نے ان کے شایانِ شان تحریر کیے ہیں۔
↑ فہرست کی طرف واپسیاساتذہ کرام
علامہ بچپن ہی سے مختلف علوم کے حصول میں غیر معمولی استعداد اور ذہانت رکھتے تھے۔ انہوں نے سات برس کی عمر میں ابتدائی علوم کی تحصیل کا آغاز کیا اور اپنے والد بزرگوار کے خرمنِ علم سے خوشہ چینی کے علاوہ دیگر اساطین علم سے بھی شرفِ تلمذ حاصل کیا:
- علامہ سلطان العلماء، رضوان مآب، سید محمد (۱۱۹۹ھ – ۱۲۸۴ھ)، فرزندِ اکبر مجدد الشریعہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید دلدار علی غفران مآب (۱۱۶۶ھ – ۱۲۳۵ھ)۔
- علامہ سید العلماء، علیین مکان، سید حسین (۱۲۱۱ھ – ۱۲۷۳ھ)، فرزندِ اصغر علامہ سید دلدار علی غفران مآب۔
- علامہ خلاصۃ العلماء، سید مرتضیٰ (متوفی ۱۲۶۶ھ)، فرزند سلطان العلماء۔
- علامہ ممتاز العلماء، سید محمد تقی (متوفی ۱۲۸۹ھ)، فرزند سید العلماء۔
- اور علامہ مفتی محمد عباس تستری (۱۲۲۴ھ – ۱۳۰۶ھ)، شاگرد سلطان العلماء۔
یہ تمام حضرات برصغیر کے نامور امامیہ مفکرین میں سے تھے اور خود کثیر و گراں قدر کتب کے مصنف تھے۔ صاحبِ عبقات کی علمی شخصیت کی تعمیر میں ان بزرگوں کا بنیادی کردار رہا ہے، جس کے متعدد شواہد علامہ میر حامد حسین رحمہ اللہ کے نجی مکتوبات اور علمی یادداشتوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
↑ فہرست کی طرف واپسیعلامہ، اکابر علماء کی نظر میں
سید حامد حسین عصرِ حاضر میں ثقافتِ امامت کے احیاء گر، متتبع مفکر، خستگی ناپذیر عالم اور مجاہدِ بے باک تھے، جن کے بلند پایہ علمی مرتبے کی توصیف میں بزرگانِ دین نے گراں قدر کلمات فرمائے ہیں۔ ایران اور عراق کے جلیل القدر علماء کی جانب سے علامہ کی شخصیت اور نگارشات، بالخصوص کتابِ شریف عبقات الانوار کی بے پایاں مدح و توصیف اس کا واضح ثبوت ہے۔ کتاب سواطع الانوار فی تقریظات عبقات الانوار کے علاوہ مختلف مکاتیب اور تحریرات کے مجموعوں میں علامہ اور ان کی کتب کی مدح میں بے شمار کلمات دیکھے جا سکتے ہیں۔
مرحوم سید حسن صدر (متوفی ۱۳۵۴ھ) صاحبِ تکملۃ امل الآمل اس طرح خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں:
فالشبل من ذاك الهزبر وإنّما / تلد الأسود الضاريات أسودا
فإنّ والده العلّامة صاحب تقليب المكائد وتشييد المطاعن. وكتاب صاحب العنوان عبقات الأنوار في إمامة الأئمّة الأطهار في عدّة مجلّدات قد شاع في جميع الأقطار، واشتهر كالشمس في رابعة النهار، وله قدّس سرّه كرامات مشهورة ومآثر مأثورة.»[۱]
اسی طرح مرحوم محدث قمی (متوفی ۱۳۵۹ھ) نے فوائد رضویہ میں صاحبِ عبقات کی یوں مدح فرمائی ہے:
أمّا التفسیر، فهو بحره المحیط، وکشّاف دقائقه بلفظه الفائق علی الوسیط والبسیط؛
وأمّا الحدیث، فالرحلة في الروایة والدرایة إلیه، والمعوّل في حلّ مشکلاته علیه؛
وأمّا الکلام، فلو رآه الأشعري لقَرّبه وقَرّبه، وعلم أنّه نصیر الدین ببراهینه وحججه المهذّبة المرتّبة؛
وأمّا الاُصول، فالبرهان لا یقوم عنده بحجّة، وصاحب المنهاج لا یهتدي معه إلی محجّة؛
وأمّا النحو، فلو أدرکه الخلیل لاتّخذه خلیلاً، أو یونس لأنس بدرسه وشفی منه غلیلاً… .
اور خلاصہ کلام یہ کہ اس بزرگوار کا وجود آیاتِ الٰہی اور شیعہ اثنا عشریہ کی حجتوں میں سے تھا۔ جو شخص بھی اس محقق کے گوہر بار قلم سے نکلی ہوئی کتاب مستطاب عبقات الانوار کا مطالعہ کرے گا، وہ جان لے گا کہ علم کلام میں، بالخصوص بحث امامت میں، صدرِ اسلام سے لے کر اب تک کسی نے اس طرز پر گفتگو نہیں کی اور نہ ہی اس نہج پر کوئی کتاب لکھی گئی ہے! اور حق تو یہ ہے کہ یہ وسعتِ نظر، گہرا احاطہ اور علم کی فراوانی سوائے تائیدِ الٰہی اور سلطانِ عصر (ارواحنا فداہ) کے لطف و عنایت کے ممکن نہیں تھی۔»[۲]
مرحوم علامہ سید محسن امین عاملی (متوفی ۱۳۷۱ھ) صاحبِ اعیان الشیعہ علامہ میر حامد حسین کا تعارف اس طرح کرواتے ہیں:
وقد طار صيته في الشرق والغرب، وأذعن لفضله عظماء العلماء، وكان جامعاً لكثير من فنون العلم، متكلّماً محدّثاً رجاليّاً أديباً، قضى عمره في الدرس والتصنيف والتأليف والمطالعة… .»
اور آگے چل کر علامہ کی کتب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وهذا الكتاب يدلّ على طول باعه وسعة اطّلاعه… قرأت نبذاً من أحدها، فوجدت مادّة غزيرة وبحراً طامياً، وعلمت منه ما للمؤلّف من طول الباع وسعة الاطّلاع، وحبّذا لو يَنبَرِي أحد لتعريبها وطبعها بالعربيّة.»[۳]
شیخ آقا بزرگ تہرانی (متوفی ۱۳۸۹ھ) صاحبِ الذریعہ نے علامہ میر حامد حسین کے سوانح میں تحریر کیا ہے:
ولد في لكهنو ۱۲۴۶ ونشأ بها على أبيه _المذكور في الكرام البررة_ نشأة طيّبة، وتعلّم المبادي وقرأ مقدّمات العلوم وأخذ الكلام عن والده الإمام السيّد محمّد قلي، والفقه والاُصول عن سيّد العلماء السيّد حسين بن السيّد دلدار علي النقوي، والمعقول عن السيّد مرتضى بن السيّد محمّد، والأدب عن المفتي السيّد محمّد عبّاس وغيرهم، وكان كثير التتبّع، واسع الاطّلاع والإحاطة بالآثار والأخبار والتراث الإسلامي، بلغ في ذلك مبلغاً لم يبلغه أحد من معاصريه ولا المتأخّرين عنه، بل ولا كثير من أعلام القرون السابقة.
أفنى عمره الشريف في البحث عن أسرار الديانة، والذبّ عن بيضة الإسلام وحوزة الدين الحنيف، ولا أعهد في القرون المتأخّرة من جاهد جهاده وبذل في سبيل الحقائق الراهنة طارفه وتِلاده، ولم تر عين الزمان في جميع الأمصار والأعصار مضاهياً له في تتبّعه وكثرة اطّلاعه ودقّته وذكائه وشدّة حفظه وضبطه… .
وله تصانيف جليلة نافعة تموج بمياه التحقيق والتدقيق، وتوقّف على ما لهذا الحبر من المادّة الغزيرة، وتعلم الناس بأنّه بحر طامي لا ساحل له، أهمّها وأشهرها عبقات الأنوار في مناقب الأئمّة الأطهار فارسي في الإمامة، وهو أجلّ ما كتب في هذا الباب من صدر الإسلام إلى الآن، يقع في أكثر من عشر مجلّدات كبار، كتبه في الردّ على باب الإمامة من التحفة الإثني عشريّة، أثبت فيه كلّ ما ردّه الدهلوي وأنكره من الروايات والأحاديث من طريق العامّة بإيراد الخبر وذكر رواته من الصحابة والتابعين وتابعي التابعين إلى المحدّثين، كلّ ذلك على ترتيب القرون والطبقات، ويؤيّد ذلك كلّه بذكر الموثّقين لطبقات الرواة حسب القرون أيضاً…
ومهما أشدّنا بذكر هذا الكتاب، فإنّا نعترف بالقصور عن أداء ما يستحقّه من الثناء والإطراء، و (((ذٰلِكَ فَضْلُ الله يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ)))[۴]… .»[۵]
علامہ امینی (متوفی ۱۳۹۰ھ) صاحبِ الغدیر نے علامہ حامد حسین کے مقامِ رفیع کے بارے میں یوں فرمایا ہے:
وأمّا كتابه العبقات فقد فاح أريجُه بين لابَتَي العالم، وطبّق حديثُه المشرق والمغرب، وقد عرف من وقف عليه أنّه ذلك الكتاب المعجز المبين الّذي لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه، وقد استفدنا كثيراً من علومه المودعة في هذا السفر القيّم، فله ولوالده الطاهر منّا الشكر المتواصل، ومن الله تعالى لهما أجزل الاُجور.»[۶]
امام خمینی (متوفی ۱۴۰۹ھ) نے اپنی کتاب کشف الاسرار میں عبقات کو «مذہب کی سب سے بڑی حجت» قرار دیتے ہوئے لکھا:
رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای نے بھی اپنے ایک خطاب میں عبقات الانوار کے متعلق فرمایا:
میں نے دیکھا کہ حال ہی میں عرب ممالک نے اس کتاب تحفہ اثنا عشریہ کو—جو بذاتِ خود تفرقہ انگیز اور اختلافات کو بھڑکانے والی کتاب ہے اور درحقیقت شیعہ کی مذمت میں اور اہل بیتؑ کی تعریف میں ہے—خلاصہ کیا ہے اور عصری زبان، بہترین طباعت، فہرست اور تصحیح کے ساتھ شائع کیا ہے۔ یہ کتاب ڈیڑھ سو سال پہلے لکھی گئی تھی جس کے جواب میں مرحوم میر حامد حسین نے یہی کتاب عبقات لکھی تھی۔ لیکن ہم شیعوں کے پاس اتنی عظمت والی کتاب عبقات کا ایسا عمدہ مطبوعہ نسخہ تاحال موجود نہیں ہے!»[۸]
تصانیف و تالیفات
اگرچہ علامہ میر حامد حسین کو زیادہ تر ان کے شاہکار موسوعہ عبقات الانوار کے ذریعے جانا جاتا ہے، لیکن اس عظیم تصنیف کے علاوہ بھی اس یگانۂ روزگار محقق کے دیگر وقیع علمی آثار موجود ہیں:
۱. النجم الثاقب فی مسئلہ الحاجب
یہ ایک فقہی اور استدلالی رسالہ ہے جو وضو اور غسل میں مانع (حاجب) کے مسئلے کے تفصیلی جائزے پر مشتمل ہے۔ شیخ آقا بزرگ نے اسے «علم الفرائض اور کیفیّتِ ارث» کی ذیلی فروعات میں شمار کیا ہے[۹]۔ علامہ کے پوتے علامہ سعید الملۃ اس کتاب کے بارے میں فرماتے ہیں: «له ثلاثة قوالب: كبير ووسيط وصغير»[۱۰]؛ تاہم دستیاب نسخوں اور ان کے معمولی اختلافات کو دیکھتے ہوئے سعید الملۃ کے کلام کو اس کتاب کی تدوین کے دوران مختلف مسودات اور یادداشتوں پر محمول کیا جائے گا۔
علامہ نے اس کتاب کی تالیف کا سبب موسوعہ جواہر الکلام کے مطالعے سے پیدا شدہ فکری محرک کو قرار دیتے ہوئے تحریر فرمایا:
اس نسخے کے ابتدائی صفحات پر جناب سید سبط الحسن کی تحریر درج ہے:
اس جلیل القدر فقیہ نے اس پرمغز رسالے کو جدید اسلوب اور گہری تحقیق سے مرتب کیا، جس نے اسے اس موضوع میں بے نظیر بنا دیا۔ انہوں نے اس میں صاحبِ جواہر، شیخ انصاری کی کتاب الطہارۃ، نراقی کے فقہی آثار اور دیگر اکابر کے نظریات کا عمیق جائزہ لے کر حاجب کی اقسام (مشکوک الوجود اور معلوم الوجود جس کی مانعیت مشکوک ہو) کی بنیاد پر دقیق تجزیہ پیش کیا۔
۲. استقصاء الافحام و استیفاء الانتقام فی رد منتہی الکلام
یہ وقیع اور ضخیم ترین اثر حیدر علی فیض آبادی حنفی (متوفی ۱۲۹۹ھ) کی کتاب منتہی الکلام کا مستند رد ہے۔
جب ۱۲۵۲ھ میں جناب سبحان علی خان (۱۱۸۰ھ – ۱۲۶۴ھ) کا «رسالہ حدیثِ حوض» شائع ہوا[۱۲] تو اہلِ سنت کے ایک بڑے حلقے نے حقانیتِ تشیع کو قبول کیا۔ حیدر علی فیض آبادی نے اس اثر و نفوذ کا مقابلہ کرنے کے لیے کتاب «منتہی الکلام ملقّب بہ تنبیہات اہل الخوض لاعتراضہم علی حدیث الحوض» لکھی اور دعویٰ کیا کہ لکھنؤ کا کوئی شیعہ عالم اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ لیکن اس ہرزہ سرائی کے بیس سال بعد، مکتبِ غفران مآب کے پروردہ جوان حامد حسین نے اپنے فاضل بھائی علامہ سید اعجاز حسین (۱۲۴۰ھ – ۱۲۸۶ھ) کی رفاقت سے استقصاء الافحام لکھ کر ایسا کاری وار کیا کہ منتہی الکلام اور اس کے مصنف کا نام و نشان تک مٹ کر رہ گیا۔
استقصاء کے مسودات کی کثرت اس بات کا بین ثبوت تھی کہ علامہ امامیہ معارف کے دفاع میں ایک جامع انسائیکلوپیڈیا مرتب کرنے کا پختہ ارادہ رکھتے تھے۔ اگرچہ جلد دوم کے آخر میں «وسیتلوہ المجلّد الثالث» کا وعدہ موجود ہے اور شیخ آقا بزرگ نے بھی تیسری جلد کے چھپنے کی خبر دی ہے، لیکن کتب خانہ ناصریہ اور دیگر کتب خانوں میں وسیع تلاش کے باوجود اس کی صرف دو ضخیم مطبوعہ پتھر کی جلدیں دستیاب ہو سکی ہیں (جلد اول مطبع مجمع البحرین لدھیانہ ۱۲۷۶ھ، اور جلد دوم مطبع اعجاز محمدی لکھنؤ ۱۳۱۵ھ)۔ اس کتاب میں تحریفِ قرآن کا رد، اثباتِ وجودِ امامِ عصر (عج)، علمائے اہل سنت کے احوال اور اصول و فروع کے تطبیقی مباحث کو فریقین کے مصادر سے کمال مہارت کے ساتھ پرکھا گیا ہے۔
۳. شوارق النصوص فی تکذیب فضائل اللصوص
یہ کتاب خلفاء اور بعض صحابہ کے لیے گھڑے گئے مزعومہ فضائل کے ابطال میں تحریر کی گئی۔
علامہ نے اس کتاب کی تحریر کا مقصد مکتبِ اہلِ بیتؑ کے خلاف مخالفین کے بہتانوں اور حدیث گھڑنے کے فتنوں کا پردہ چاک کرنا بیان کیا ہے۔ اس کتاب کے تالیف کی داستان بھی علامہ کی جدوجہد کی عکاس ہے؛ جب لکھنؤ کے خونریز ہنگاموں کے دوران انہیں اپنے آبائی وطن کنتور ہجرت کرنی پڑی اور کتب کی قلت کے سبب وہ استقصاء یا عبقات جاری نہ رکھ سکے، تو انہوں نے اس کتاب کو مکمل کرنے پر توجہ مرکوز کی کیونکہ اس کے لیے کم مصادر درکار تھے[۱۴]۔
علامہ نے اسے ایک بے نظیر کتاب قرار دیا جس کی گہرائی کا ادراک سوائے اہل فضل کے کوئی نہیں کر سکتا[۱۵]۔ اس کتاب کے چھ ابواب اور ایک خاتمہ ترتیب دیا گیا: ابوبکر، عمر، عثمان، شیخین، خلفائے ثلاثہ، اور معاویہ و عائشہ و دیگر کے من گھڑت فضائل، جبکہ خاتمہ شیعوں کے خلاف موضوعہ روایات کی تردید پر مشتمل ہے۔ فی الحال اس کے تین ابواب دستیاب ہیں۔
۴. العضب البتار فی مبحث آیۃ الغار
یہ رسالہ محمد فاخر الہ آبادی کی کتاب درۃ التحقیق فی نصرۃ الصدیق کے رد میں لکھا گیا۔
قاضی نور اللہ شوشتری نے نظام الدین نیشابوری کی تردید میں کشف العوار فی تفسیر آیۃ الغار لکھی تھی، جس کے جواب میں محمد فاخر نے درۃ التحقیق تصنیف کی۔ علامہ نے فاخر کی تشکیکات کا مسکت جواب دینے کے لیے ۱۲۷۴ھ میں العضب البتار لکھی اور اپنے محترم استاد سلطان العلماء سید محمد کو ہدیہ کی[۱۶]،[۱۷]۔ انہوں نے ایک ایک سطر نقل کر کے اجتہادی نگاہ سے اس کا رد فرمایا۔
۵. افحام اہل المین فی رد ازالۃ الغین
یہ حیدر علی فیض آبادی کی فارسی کتاب ازالۃ الغین عن بصارۃ العین باثبات شہادت الحسینؑ کے رد میں تین جلدوں پر مشتمل تھی۔ بدقسمتی سے علامہ سعید الملۃ کے تذکرے کے باوجود[۱۸] تاحال اس کا کوئی نسخہ دست بردِ زمانہ سے محفوظ نہیں مل سکا۔
۶. اسفار الانوار عن حقائق افضل الاسفار (الرحلۃ المکیّۃ)
یہ علامہ میر حامد حسین کے حج بیت اللہ اور عتباتِ عالیات کے زیارتی سفر کی مفصل اور ایمان افروز روداد ہے۔ انہوں نے ۲۲ جمادی الاولیٰ ۱۲۸۲ھ کو اپنے برادر محترم علامہ اعجاز حسین کے ہمراہ لکھنؤ سے سفر شروع کیا اور بمبئی کی بندرگاہ سے جدہ اور مکہ پہنچے۔ انہوں نے مکہ، مدینہ، نجف اور کربلا کے قیام کے دوران شب و روز نایاب کتب خانوں کی ورق گردانی اور نادر نسخوں کی نقل نویسی (استنساخ) میں صرف کیے۔ یہ سفرنامہ علمی مصادر کی تلاش کے روح فرسا سفر کا لمحہ بہ لمحہ گواہ ہے جس کا اصل خودنوشت نسخہ کتب خانہ ناصریہ میں موجود ہے[۱۹]۔
۷. الدرر السنیّۃ فی المکاتیب والمنشآت
یہ مجموعہ خاندانِ عبقات کے ایران و عراق کے اکابر اور مفکرین کے ساتھ خط و کتابت پر مشتمل ہے، جس کے مسودات ضخیم بیاضوں کی شکل میں محفوظ ہوئے ہیں[۲۰]۔ علامہ ذاکر حسین نے جمادی الثانیہ ۱۳۰۱ھ میں اس پر مہر لگاتے ہوئے لکھا: «اگر اس کتاب کے بدلے اتنے ہی موتی بھی بیچے جائیں تو بیچنے والا گھاٹے میں رہے گا۔»
۸. اللآلی البہیّۃ فی المکاتیب والمنشآت
یہ خاندانِ عبقات کے اندرونی مکتوبات، برادرِ بزرگ سید اعجاز حسین کے باہمی خطوط اور خطے کے بااثر افراد و علماء کے ساتھ تبادلۂ خیال کی مستند دستاویزات پر مشتمل ہے[۲۱]،[۲۲]،[۲۳]۔
۹. عبقات الانوار فی امامۃ الائمۃ الاطہار علیہم السلام
↑ فہرست کی طرف واپسیتحفہ اثنا عشریہ اور اس کے ردود کا اجمالی جائزہ
عبقات الانوار کے لازوال مقام کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے شاہ عبد العزیز دہلوی (۱۱۵۹ھ – ۱۲۳۹ھ) کی تفرقہ انگیز کتاب تحفہ اثنا عشریہ اور مدرسۂ کلامی لکھنؤ کی مساعی کا جائزہ لیا جائے۔ عبد العزیز نے ۲۵ سال کی عمر میں نابینا ہونے کے بعد اپنے والد شاہ ولی اللہ کے مدرسہ رحیمیہ کا انتظام سنبھالا اور مختلف کتب تصنیف کیں جن میں سب سے بدنام کتاب تحفہ اثنا عشریہ (ملقب بہ نصیحۃ المؤمنین و فضیحۃ الشیاطین) تھی[۲۴]،[۲۵]،[۲۶]۔
حقیقت یہ ہے کہ سلیس فارسی میں لکھی گئی یہ کتاب نصر اللہ کابلی کی متعصبانہ کتاب الصواقع الموبقہ کا سرقہ (چوری) اور ترجمہ تھی، جیسا کہ صاحبِ عبقات نے اپنی کتاب میں واضح الفاظ میں لکھا ہے: «و خواجهٔ كابلى كه جُلّ كتاب او را شاهصاحب انتحال كردهاند…»[۲۷]۔
تحفہ بارہ ابواب پر مشتمل تھی[۲۸]، لیکن اس کا مصنف مناظرے کے تمام علمی اخلاق سے عاری تھا[۲۹]۔ اس نے مغالطوں کا سہارا لے کر دعویٰ کیا کہ شیعہ کے پاس امامت پر صرف سات قرآنی آیات اور بارہ احادیث ہیں اور شیعہ دلائل کے باب میں اہلِ سنت کے خوشہ چین ہیں![۳۰]،[۳۱] دہلوی نے قرآنی دلائل کو صرف آیات (ولایت، تطہیر، مودت، مباہلہ، انما انت منذر، وقفوہم، اور سابقون) اور روایات کو بارہ احادیث (غدیر، منزلت، ولایت، طیر، مدینۃ العلم، تشبیہ، مناصبہ، نور، خیبر، علی مع الحق، مقاتلہ یا خاصف النعل، اور ثقلین) میں محصور قرار دیا۔
اس فتنے کے سدباب کے لیے برصغیر کے علماء نے پچاس سے زائد ردود لکھے۔ خاندانِ اجتهاد اور مدرسہ لکھنؤ نے اس محاذ پر تاریخی کردار ادا کیا:
- سیف اللہ المسلول از مرزا محمد کامل نیشابوری اکبر آبادی (شہید رابع، متوفی ۱۲۳۵ھ)۔
- الصوارم الالہیات، حسام الاسلام، رسالہ غیبت، احیاء السنۃ اور ذوالفقار از مجدد الشریعہ علامہ سید دلدار علی غفران مآب۔
- بوارق الموبقہ اور طعن الرماح از سلطان العلماء سید محمد۔
- الاجناد الاثنا عشریہ المحمدیہ از علامہ مفتی محمد قلی (مشتمل بر: سیف ناصری، تقلیب المكائد، برہان السعادۃ، تشييد المطاعن اور مصارع الافہام)۔
لیکن عبقات الانوار مدرسہ لکھنؤ کی کوششوں کا وہ نچوڑ تھا جس نے تحفہ کی بنیادیں ہمیشہ کے لیے ہلا کر رکھ دیں اور آلِ موسوی نیشابوری کو تاریخ میں «آلِ عبقات» کے لقب سے جاوداں کر دیا۔
↑ فہرست کی طرف واپسیعبقات الانوار اور علامہ کا تحقیقی اسلوب
جب علامہ میر حامد حسین نے دیکھا کہ تحفہ کے ساتویں باب کے سابقہ جوابات تشنگی بجھانے کے لیے ناکافی ہیں، تو انہوں نے تقریباً ۴۰ سال شبانہ روز جدوجہد کر کے اس بت کو پاش پاش کیا۔ اس کتاب کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ آج تک مخالفین کی جانب سے اس کا کوئی ایک رد بھی نہیں لکھا جا سکا!
عبقات دو بڑے منہج پر مشتمل ہے:
- منہج اول (آیات): دو حصوں پر مشتمل ہے؛ پہلا حصہ امامت پر اہل سنت کے چھ نظریات کی تردید اور دلائلِ خلافت کی چھان بین ہے، جبکہ دوسرا حصہ امامتِ امیر المؤمنینؑ پر دلالت کرنے والی آیات پر شاہ عبد العزیز کے شکوک و شبہات کا مسکت جواب ہے[۳۴]۔
- منہج دوم (احادیث): ہر حدیث کی دو جہتوں یعنی سند اور دلالت کی جامع تحقیق کی گئی ہے۔ علامہ پہلے رجالِ عامہ کی کتب سے ہر روایت کی سندی صحت اور تواتر ثابت کرتے ہیں، اور پھر وجوہاتِ دلالت کے ذریعے بلا فصل امامتِ علیؑ کو ثابت کرتے ہیں۔
علامہ نے انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑے بغیر مخالفین کے ہر اعتراض کو امانت داری کے ساتھ ہو بہو نقل کیا اور پھر قرونِ اولیٰ کے علمائے اہل سنت کے اعترافات سے ثابت کیا کہ یہ شبہات کتنے بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے ابن تیمیہ، ابن کثیر، ابن حجر اور فخر رازی جیسے کبار مخالفین کے شبہات کی ایسی دھجیاں بکھیریں کہ ان میں سے ہر ایک بحث بذاتِ خود ایک مستقل کتاب کا درجہ رکھتی ہے۔
منہجِ دوم کی بارہ احادیث میں سے آٹھ احادیث کی تدوین مکمل ہوئی جن میں سے پانچ احادیث (غدیر، منزلت، ولایت، تشبیہ، نور) علامہ کی حیات میں اور تین احادیث (طیر، مدینۃ العلم، ثقلین) ان کے فرزند علامہ ناصر الملۃ کے ہاتھوں زیورِ طبع سے آراستہ ہوئیں، جبکہ دیگر احادیث کے گراں بہا تحقیقی مسودات کتب خانہ ناصریہ اور امامت فاؤنڈیشن کے آرکائیو میں محفوظ ہیں[۳۲]،[۳۳]،[۳۵]۔
↑ فہرست کی طرف واپسیسوگِ عالمگیر
احیائے امامت میں ساٹھ سالہ بے نظیر خدمات کے بعد ۱۸ صفر ۱۳۰۶ھ کو اس جلیل القدر عالم نے داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ منقول ہے کہ حیات کے آخری دنوں میں وہ گریہ کناں تھے، سبب دریافت کیا گیا تو فرمایا: “مجھے اس بات کی فکر دامن گیر ہے کہ مرنے کے بعد جب مولائے کائناتؑ کے حضور پیش ہوں گا تو شرمندہ نہ ہونا پڑے کہ میں نے ان کے لیے کچھ بھی نہیں کیا!” پھر وصیت فرمائی کہ ان کے اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی حدیث غدیر کی اوراق کو ان کے کفن میں آنکھوں پر رکھا جائے تاکہ سید الاوصیاءؑ کی بارگاہ میں بطریقِ نیاز پیش کر سکیں۔
جب غسال نے غسل کے دوران ان کے سینے پر گہرے نشانات دیکھے تو علامہ ناصر الملۃ نے آبدیدہ ہو کر بتایا: “آخری عمر میں جب بیماری کی شدت سے والد محترم کے ہاتھوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا، تو وہ فرماتے تھے کہ مخالفین کی کتابیں میرے سینے پر رکھ دو تاکہ میں دیکھ کر بولتا جاؤں اور تم لکھتے جاؤ۔ یہ نشانات اسی فداکاری کے ہیں۔”
آپ کے وصال پر برصغیر اور عراق میں مجالسِ ترحیم برپا ہوئیں اور نجف کے مراجع کی فرمائش پر القصائد المشكلۃ فی المراثی المثكلۃ شائع ہوئی۔ آپ کا مدفن لکھنؤ کے امام باڑہ غفران مآب میں اپنے استاد مفتی محمد عباس تستری، والد ماجد مفتی محمد قلی اور برادر بزرگ علامہ اعجاز حسین کے پہلو میں مرجعِ خلائق ہے۔
اللّهم صلّ علی محمّد وآل محمّد، وعجّل فرج ولیّك، واجعلنا من خیر أعوانه وشیعته والذابّین عنه۔
مہدی اسفندیاری[cite: 1]
حواشی و مآخذ:
- تکملۃ امل الآمل ۲: ۳۰۸۔ ↵
- الفوائد الرضویّۃ ۱: ۱۶۷ و ۱۶۸۔ ↵
- اعیان الشیعۃ ۴: ۳۸۱۔ ↵
- سورۃ المائدۃ: ۵۴۔
- طبقات اعلام الشیعۃ ۱۳: ۳۴۷ – ۳۵۰۔ ↵
- الغدیر ۱: ۳۲۱ و ۳۲۲۔ ↵
- کشف الاسرار: ۱۴۱۔ ↵
- رہبر معظم کے بیانات در ملاقات با اعضای شورای عالی مجمع جهانی اهل بیتؑ بتاریخ ۴/۷/۱۳۷۰ش۔ ↵
- الذریعۃ ۲۹: ۶۹۔ ↵
- نجوم السماء ۲: ۳۱ و الذریعۃ ۲۹: ۶۹۔ ↵
- النجم الثاقب (مخطوط): ۲ الف، بازیابی نمبر ۲۴۶۰۹، کتابخانہ آستان قدس رضوی؛ جواہر الکلام ۲: ۲۸۷۔ ↵
- کشف الحجب والاستار ۱: ۲۵۸۔ ↵
- گزیدہ دانشوران و رجال اصفہان: ۴۳۰۔ ↵
- الدرر السنیّۃ: ورقہ ۱۶۳ ب – ۱۶۵ الف، مخطوط، بازیابی نمبر ۵۱۵۹۴، کتابخانہ آستان قدس رضوی۔ ↵
- علامہ نے مقدمہ شوارق میں تحریر فرمایا: «فرأيت أن اُصنّف رسالة لم يسبقني أحد إلى تصنيفها، ولم يبادرني مبادر إلى ترصيفها، لا يعلم فضلها وجلالة شأنها إلّا الراسخون، ولا يدرك غورها وقعرها إلّا الشامخون.» شوارق النصوص ۱: ۴۴۔ ↵
- العضب البتار (مخطوط): ۳، بازیابی نمبر ۲۱۸۹۹، کتابخانہ آستان قدس رضوی۔ ↵
- العضب البتار: ۴، مخطوط، بازیابی نمبر ۲۱۸۹۹، کتابخانہ آستان قدس رضوی۔ ↵
- الذریعۃ ۳: ۲۵۷۔ ↵
- رحلات الکرام الی بیت اللہ الحرام ۱: ۴۲۵ و ۴۲۶۔ ↵
- الدرر السنیّۃ: ۲، مخطوط، بازیابی نمبر ۲۸۳۰۰، کتابخانہ آستان قدس رضوی۔ ↵
- ڈاکٹر مہدی خواجہ پیری کے قلم سے، بتاریخ ۱۵ شعبان المعظم ۱۴۲۱ھ۔ ↵
- لآلی بہیّہ، مکاتیب فارسیّہ (مخطوط)، بازیابی نمبر ۲۳۲۰، کتب خانہ ناصریہ۔ ↵
- لآلی بہیّہ، مکاتیب فارسیّہ (مخطوط): ۲، بازیابی نمبر ۲۸۰۷۳، کتابخانہ آستان قدس رضوی۔ ↵
- تحفہ اثنا عشریہ: ۲ الف۔ ↵
- ایضاً۔ ↵
- ایضاً: ۲ ب۔ ↵
- عبقات الانوار فی امامۃ الائمۃ الاطہار ۸: ۲۹۵۔ ↵
- تحفہ اثنا عشریہ: ۳ الف۔ ↵
- تحفہ اثنا عشریہ: ۲ الف و ب۔ ↵
- ایضاً: ۱۵۸ ب۔ ↵
- ایضاً: ۱۵۸ الف۔ ↵
- تحفہ میں جن سات آیات کو زیر بحث لایا گیا: ولایت، تطہیر، مودت، مباہلہ، ہدایت، مسؤولون، اور سابقون۔ ↵
- احادیث جن پر تحفہ نے اعتراض کیا: غدیر، منزلت، ولایت، طیر، مدینۃ العلم، تشبیہ، مناصبہ، نور، خیبر، علی مع الحق، مقاتلہ یا خاصف النعل، اور ثقلین۔ ↵
- مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو مقدمہ محقق چاپ کانگریس علامہ میر حامد حسین۔ ↵
- کانگریس کے نسخہ جات کا تصویری ڈیٹا بیس بھارت و ایران کے مراکز اور لکھنؤ میں خاندانِ عبقات کے باہمی تعاون سے حاصل ہوا۔ ↵