علامہ کا اپنے فرزند کی تجہیز و تکفین میں شرکت نہ کرنے کا واقعہ
یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک باپ اپنے جوان بیٹے کی موت کی خبر سن کر اپنی لائبریری، قلم، دوات، تالیف اور مطالعہ کو نہ چھوڑے؟
کہتے ہیں کہ سیّد کے فرزندوں میں سے ایک کا انتقال ہو گیا اور انہیں تشییع جنازہ میں شرکت کی خبر دی گئی۔ سیّد بیٹے کی موت سے سخت متأثر ہوئے، لیکن انہوں نے حکم دیا کہ کفن و دفن خود ہی کریں کیونکہ ان کے پاس سوگواری میں شرکت کا وقت نہیں ہے۔ لوگوں کو گمان ہوا کہ خدا نخواستہ بیٹے کی موت کی خبر سننے کے اثر سے باپ کے حواس پر فرق پڑ گیا ہے، ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک باپ اپنے جوان بیٹے کی موت کی خبر سن کر اپنی لائبریری، قلم، دوات، تالیف اور مطالعہ کو نہ چھوڑے اور ہمیشہ کی طرح کتابیں پڑھے اور لکھے؟!
**کتاب «عبقات الانوار» کی تالیف میرے جوان بیٹے کی تشییع جنازہ سے زیادہ واجب اور برتر ہے۔**
سیّد نے اپنی فراست سے سمجھ لیا کہ لوگوں کے ذہن میں کیا خیال ہے، لہذا ان کے اس گمان کے جواب میں فرمایا:
«کتاب «عبقات الانوار» کی تالیف میرے جوان بیٹے کی تشییع جنازہ سے زیادہ واجب اور برتر ہے اور میرے پاس اس کام کے لیے وقت نہیں ہے۔ آپ لوگ میری طرف سے جائیں اور میرے جوان ناکام بیٹے کے کفن و دفن اور سوگواری کا انتظام کریں اور مجھے میری کتاب کی تالیف میں مشغول رہنے دیں تاکہ میں اہلسنت کے بزرگوں کی باتوں سے «علی المرتضی» کی حقانیت کو ثابت کر سکوں، کیونکہ «علی کو تاریکی میں دیکھا گیا ہے»۔»




