Day: 28 تیر 1405

زندگی نامه

کتاب «طبقات اعلام الشیعہ» میں علامہ میر حامد حسین

وہ سید امیر حامد حسین بن امیر سید محمد علی (محمد قلی) بن سید محمد بن حامد حسین الموسوی النیشابوری الکنتوری الہندی لکھنوی ہیں۔ آپ امامیہ کے اکابر متکلمین اور چودہویں صدی کے عظیم ترین محقق شیعہ علماء میں سے ہیں۔ آپ **1246ھ (1830ء)** میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے اور اپنے والدِ بزرگوار کی آغوشِ تربیت میں پلے بڑھے۔ آپ نے والد سے علمِ کلام، اور سید العلماء سید حسین نقوی سے فقہ و اصول کی تعلیم حاصل کی۔

زندگی نامه

کتاب «مصفی المقال» میں علامہ میر حامد حسین

وہ سید میر حامد حسین بن سید محمد قلی بن سید محمد بن المیر حامد النیشابوری الکنتوری ہیں۔ آج تک ان کی کتاب «عبقات الانوار فی مناقب ائمه الاطهار» کے بارہ سے زائد مجلدات شائع ہو چکے ہیں۔ اگرچہ یہ کتاب خاص طور پر علمِ رجال کے موضوع پر نہیں لکھی گئی، لیکن اس کا کوئی بھی ورق ایسا نہیں ہوتا جس میں عام یا خاص شخص کا تذکرہ، ان کی تاریخ، ان کی تصانیف اور ان کے «جرح و تعدیل» (اعتبار کی تحقیق) کا ذکر نہ ہو۔ چنانچہ یہ ان کلامی، تاریخی اور رجالی کتب میں سے ہے جس میں مؤلف نے ایسی علمی رفعت حاصل کی ہے جو ان سے پہلے کسی نے نہیں پالی۔

زندگی نامه

گنجینہ دانشمندان میں علامہ میر حامد حسین

علامہ میر حامد حسین نہایت بلند مقام کے حامل تھے۔ نقل ہے کہ ان کی وفات کے بعد ایک نیک بندے نے خواب میں دیکھا کہ قیامت برپا ہے، رسول خدا (ص) منبر پر جلوہ افروز ہیں اور علامہ ایک زینہ نیچے تشریف فرما ہیں، گناہگاروں کے لیے شفاعت کر رہے ہیں اور رسول خدا ان کی شفاعت قبول فرما رہے ہیں۔

Scroll to Top