کتاب «ہدیة الاحباب» میں علامہ میر حامد حسین
«صاحبِ عبقات الانوار، سیدِ اجل، علامہِ فہّامہ، حجت الاسلام والمسلمین اور اپنے آباء طاہرین کے مذہب کے ناشر؛ جناب میر حامد حسین موسوی ہندی۔ آپ کا وجودِ مسعود آیاتِ الہی میں سے ایک آیت اور شیعہ اثنا عشریہ کی حجتوں میں سے ایک حجت تھا۔ جو بھی کتابِ عبقات کا مطالعہ کرے گا، وہ جان لے گا کہ فنِ کلام، بالخصوص بحثِ امامت میں، صدرِ اسلام سے لے کر آج تک کسی نے اس منہج پر کلام نہیں کیا اور نہ ہی اس طرز پر تصنیف لکھی۔ اور یہ حقیقت عیاں ہے کہ یہ احاطہ، یہ وسعتِ نظر اور یہ بلند مرتبہ، اللہ تعالیٰ کی تائید اور سلطانِ عصر، حضرت ولیِ اللہ (ارواحنا فداہ) کی توجہ کے بغیر ممکن نہ تھا۔
آپ کا انتقال تقریباً 1306ھ میں ہوا۔
*(شعر):*
*زندہ ہے وہ کہ جس کے دیار میں، ہوں خلف اس کی یادگار*
جناب میر سید ناصر حسین، جو اس بزرگ ہستی کے فرزند ہیں، اپنے والد کی تمام کمالات اور آثار کے وارث ہیں، اس ‘بحرِ زخّار’ (موج زن سمندر) کے دوسرے پیکر ہیں اور اس بیت کے مصداق ہیں:
*ان السری اذا سری فبنفسه … وابن السری اذا سری اسراهما*
آپ نے اپنے والد کی زحمتوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا، اور اپنے والدِ ماجد کی طرح ‘عبقات’ کی تکمیل میں مشغول ہیں، اور اب تک اس کی چند جلدیں بہترین تصحیح کے ساتھ چھپ چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے وجودِ شریف کی برکات کو قائم رکھے اور دینِ حنیف کی نصرت کے لیے آپ کی اعانت فرمائے۔»





