اصفهان میں علامہ میر حامد حسین لکھنوی کی بین الاقوامی کانفرنس کی تمہیدی نشست کا انعقاد
تقریب کی تفصیلات: یہ تقریب دو سیشنز (صبح اور شام) میں منعقد ہوئی۔ صبح کے سیشن کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جس کے بعد اصفہان حوزہ علمیہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ہادی زادہ نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور تشیع کے دفاع میں علامہ میر حامد حسین جیسی علمی شخصیات کی خدمات کی اہمیت پر زور دیا۔ اس کے بعد حضرت آیت اللہ العظمیٰ مظاہری کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جس میں علامہ لکھنوی کے کام کی عظمت اور ان کے علمی ورثے، بالخصوص کتاب “عبقات الانوار” کے احیاء کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اس کے بعد “احیائے آثارِ علامہ میر حامد حسین” کے موضوع پر ایک علمی مذاکرہ ہوا جس میں حجۃ الاسلام کاظمی، اسفندیاری اور شجاعت حسین نے شرکت کی۔ اس مذاکرے میں سیکرٹریٹ کی سرگرمیوں کی جامع رپورٹ پیش کی گئی، جس میں قلمی نسخوں کی جمع آوری، لکھنؤ میں “کتب خانہ ناصریہ” کی فہرست سازی اور مرمت، علامہ کی سوانح عمری کی تدوین اور لکھنؤ کے کلامی مکتب سے آگاہی کے لیے تعلیمی کورسز کا انعقاد شامل تھا۔ یہ بھی اعلان کیا گیا کہ اب تک ‘عبقات الانوار’ کی 18 جلدیں جدید تحقیق کے ساتھ شائع ہو چکی ہیں اور 12 جلدیں زیرِ طبع ہیں۔
مذاکرے کے بعد آیت اللہ شیخ نجم الدین طبسی نے “علامہ میر حامد حسین کی علمی (فقہی اور کلامی) شخصیت” کے موضوع پر مفصل خطاب کیا۔ انہوں نے علامہ کو ایک مجتہد فقیہ اور باریک بین محدث قرار دیا جو علمِ کلام کے ساتھ ساتھ فقہ اور اصول میں بھی صاحبِ رائے تھے۔ انہوں نے میرزائے شیرازی، میرزائے نوری اور سید محسن امین جیسے اکابرینِ شیعہ کے اقوال نقل کیے جنہوں نے علامہ کو “سید الطائفہ”، “غوث الملہ” اور “سب سے بڑا شیعہ متکلم” قرار دیا تھا۔

