نورالانوار ترجمہ عبقات الانوار» کی چھٹی جلد شائع ہوگئی
علامہ میر حامد حسین موسوی ہندیؒ کے عظیم علمی شاہکار «عبقاتُ الانوار فی إمامۃ الائمۃ الاطہار» کے اردو ترجمے پر مشتمل مجموعے «نورُالانوار» کی چھٹی جلد شائع ہوگئی ہے۔ اس نئی جلد میں حدیثِ منزلت سے متعلق عبقاتُ الانوار کی علمی اور تحقیقی مباحث کو اردو زبان میں پیش کیا گیا ہے۔
«نورُالانوار؛ ترجمۂ عبقاتُ الانوار» کی اس جلد کا اردو ترجمہ مولانا سید شجاعت حسین رضوی گوپال پوری، ممتازُ الافاضل و واعظ، نے انجام کیا ہے، جب کہ اسے الرسول پبلیکیشنز، گوپال پور، سیوان، بہار، ہندوستان نے شائع کیا ہے۔
یہ کتاب «نورُالانوار» سلسلے کی چھٹی جلد ہے۔ اس سے قبل اس مجموعے کے تحت حدیثِ ثقلین، حدیثِ سفینہ، حدیثِ تشبیہ اور حدیثِ نور سے متعلق عبقاتُ الانوار کے مباحث اردو زبان میں شائع ہوچکے ہیں۔ نئی جلد کی اشاعت کے ساتھ اردو قارئین کو حدیثِ منزلت کے بارے میں علامہ میر حامد حسینؒ کی مفصل تحقیقات سے براہِ راست استفادہ کرنے کا موقع میسر آیا ہے۔
«عبقاتُ الانوار» امامت اور فضائلِ اہل بیت علیہم السلام کے موضوع پر لکھی جانے والی شیعہ کلامی کتابوں میں ایک ممتاز اور بے مثال مقام رکھتی ہے۔ علامہ میر حامد حسینؒ نے یہ کتاب «تحفۂ اثنا عشریہ» میں امامت سے متعلق پیش کیے گئے اعتراضات کے جواب میں تصنیف کی۔ مؤلف نے اس عظیم کتاب میں اہل سنت کی حدیثی، رجالی، تاریخی، تفسیری اور کلامی کتابوں سے وسیع پیمانے پر استفادہ کرتے ہوئے امامت اور فضائلِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے متعلق احادیث کی سند اور دلالت کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔
علامہ میر حامد حسینؒ کی تحقیق کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے استدلال میں زیادہ تر ان مصادر اور علمی اصولوں کو بنیاد بنایا ہے جو مخالف فریق کے نزدیک بھی معتبر اور قابلِ قبول ہیں۔ اسی وجہ سے «عبقاتُ الانوار» کو امامت کے دفاع اور احادیثِ فضائل کی تحقیق کے میدان میں ایک بنیادی اور مرجع کتاب کی حیثیت حاصل ہے۔
«نورُالانوار» کی چھٹی جلد میں مشہور حدیثِ منزلت پر بحث کی گئی ہے، جس میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:
«أنتَ مِنّی بِمَنزلةِ هارونَ مِنْ مُوسیٰ، إلّا أنّه لا نَبیَّ بَعدی»
یعنی: تمہاری نسبت مجھ سے وہی ہے جو ہارون کی موسیٰ سے تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
حدیثِ منزلت شیعہ اور اہل سنت دونوں کے متعدد معتبر حدیثی اور تاریخی مصادر میں نقل ہوئی ہے۔ اس حدیث کے صدور کا سب سے مشہور موقع غزوۂ تبوک ہے، جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں حضرت علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ اس کے علاوہ بھی مختلف مواقع پر اسی مضمون کی روایات نقل ہوئی ہیں۔
علمائے امامیہ حدیثِ منزلت کو امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے بلند مقام، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خصوصی نسبت اور آنحضرتؐ کے بعد آپؑ کی جانشینی کے اہم دلائل میں شمار کرتے ہیں۔ علامہ میر حامد حسینؒ نے «عبقاتُ الانوار» میں اس حدیث کی اسناد، راویوں، مصادر اور مختلف دلالتوں کا نہایت تفصیل کے ساتھ تحقیقی جائزہ پیش کیا ہے۔
مقالہ «عبقات الانوار کی مکمل احیاء، ڈیڑھ سو سال کے انتظار کے بعد» شائع ہو گیا




