مقالہ «عبقات الانوار کی مکمل احیاء، ڈیڑھ سو سال کے انتظار کے بعد» شائع ہو گیا
عبقات الانوار کی مکمل احیاء، ڈیڑھ سو سال کے انتظار کے بعد
مقالے کی قسم: تحقیقی
مصنفین: مہدی اسفندیاری؛ روح اللہ کاظمی
خلاصہ:
لکھنؤ کے کلامی ـ فقہی مدرسہ نے، مذاہب کے نزاع اور تقابل کے زمانے میں، مفکرین کی کثرت اور لاتعداد علمی میراث کے ساتھ، تمام برصغیر بلکہ اس سے بھی آگے دیگر اسلامی سرزمینوں میں ثقافتِ امامیہ کی ترویج میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس دوران، علامہ میر حامد حسین (علیہ الرحمہ) کی «عبقات الانوار فی امامتِ الائمۃ الاطہار» نے بطورِ «مذہب کی سب سے بڑی حجت»، امامت کی تحقیق کرنے والے مفکرین کے درمیان ایک سنگِ میل (نقطہ عطف) پیدا کیا ہے، اور ایک سیدھے اور درست، نامور اور پائیدار منہج کے ساتھ، اور اس کے سبب علمِ امامت کی وسعت اور پیشرفت، بے مثال نظر آتی ہے۔ افسوس کے ساتھ، ان طویل برسوں میں کی جانے والی کوششوں کے باوجود اور منفرد لٹریچر، قابلِ توجہ حجم، مواد کے تنوع اور اس کے نسخوں اور مصادر کی نایابی کے پیشِ نظر، اس کی احیاء صورت نہ پا سکی اور «ابھی تک ہمارے پاس اتنی عظمت کے ساتھ کتابِ عبقات کی چھپی ہوئی صورت موجود نہیں ہے»۔ یہاں تک کہ عنایاتِ الہی سے، علامہ میر حامد حسین (علیہ الرحمہ) کی تکریم کے بین الاقوامی کانگریس کے سیکرٹریٹ نے ایک جامع اور فنی تحقیق کی تیاری کے لیے کمرِ ہمت بستہ کی اور اس اہم کام کو بہت سے نشیب و فراز کے بعد، نسخوں کی تصاویر کے ایک بینک کے ساتھ، ایک واحد شیوہ نامے کی بنیاد پر اور ماہرینِ فن کی نگرانی میں نوجوان محققین کی ایک نسل کی ہمت سے، ثمر آور کیا اور علماء اور فکر مند افراد کی دیرینہ آرزو کو پورا کر دیا۔ آج اس عظیم اثر کا وہ تمام حصہ جو تصحیح اور تحقیق کی قابلیت رکھتا تھا، ۳۷ جلدوں میں زیورِ طبع سے آراستہ ہو چکا ہے اور اہلِ فن اور ماہرین کی ستائش کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔
مقالے کا مکمل متن حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں





