کتاب «طبقات اعلام الشیعہ» میں علامہ میر حامد حسین
علمی مقام:
آپ گہرے مطالعے کے حامل، صاحبِ اطلاع اور تراثِ اسلامی و اخبار و آثار پر ایسی دسترس رکھتے تھے جو آپ کے معاصرین، متاخرین، بلکہ اسلاف میں سے بھی بہت کم علماء کو نصیب ہوئی۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دین کے اسرار کی تلاش اور حوزہِ دینِ حنیف کے دفاع میں صرف کی۔ تاریخِ عالم میں اس قدر تتبع، دقت، ذہانت اور قوتِ حافظہ کا حامل دوسرا شخص نہیں دیکھا گیا۔
کتب خانہ:
آپ کے پاس ہندوستان میں ایک منفرد کتب خانہ تھا جو شیعہ دنیا کا ایک افتخار ہے، جس میں تیس ہزار سے زائد مطبوعہ اور مخطوطہ کتابیں (بالخصوص اہل سنت کی نفیس کتب) موجود تھیں۔ ہمارے استاد علامہ مرزا حسین نوری فرماتے ہیں: “آپ نے مجھ سے ایک کتاب طلب کی۔ میں نے حیرت کا اظہار کیا کہ اتنے عظیم کتب خانے میں یہ کتاب نہیں ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: مجھے یقین ہے کہ میرے کتب خانے میں اس کی کئی کاپیاں موجود ہیں، لیکن انہیں تلاش کرنے کے لیے وقت درکار ہے؛ جبکہ جو کتاب آپ بھیجیں گے وہ مجھے اس کتاب کے ملنے سے پہلے موصول ہو جائے گی۔”
تالیفات:
آپ کی اہم ترین تالیف **«عبقات الانوار فی مناقب الائمة الاطہار»** ہے، جو صدرِ اسلام سے اب تک امامت کے موضوع پر لکھی جانے والی سب سے عظیم کتاب ہے (جو دس سے زائد ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے)۔ نیز **«استقصاء الافحام»** (دس جلدوں میں)، **«الشریعة الغراء»** (فقہ) اور دیگر کثیر کتب آپ کی علمی میراث ہیں۔




