علامہ میر حامد حسین «سوانح قاسمی» میں

چکیده: نہ صرف اس کتاب میں، بلکہ ان سے منسوب شائع شدہ خطوط میں بھی ہم شیعوں کے حوالے سے متعدد مباحث دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ وہ اور کیا کر سکتے تھے؟ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا، «امام کبیر» نے میر حامد حسین کے پاس – جو کہ شیعوں کے درمیان اپنے زمانے کے مجتہد تھے – اپنی حیثیت اور منزلت کو پیشِ نظر رکھے بغیر حاضری دی۔

علامہ میر حامد حسین «سوانح قاسمی» میں

 

**بسم اللہ الرحمن الرحیم**

**علامہ میر حامد حسین «سوانح قاسمی» میں**

**مولوی محمد قاسم، عالمِ اہل سنت کی مرحوم علامہ کے ساتھ ملاقات کا تذکرہ**

 

نہ صرف اس کتاب میں، بلکہ ان سے منسوب شائع شدہ خطوط میں بھی ہم شیعوں کے حوالے سے متعدد مباحث دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ وہ اور کیا کر سکتے تھے؟ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا، «امام کبیر» نے میر حامد حسین کے پاس – جو کہ شیعوں کے درمیان اپنے زمانے کے مجتہد تھے – اپنی حیثیت اور منزلت کو پیشِ نظر رکھے بغیر حاضری دی۔ جیسا کہ انہوں نے خود مولوی ضیاء الدین رامپوری کے نام ایک خط میں اس ملاقات کی کیفیت کو ان الفاظ میں ذکر کیا ہے: «میں بغیر عمامہ اور رومال کے – جیسا کہ عادت ہے – اس جگہ گیا جہاں مولوی حامد حسین صاحب لکھنوی شیعہ…. قیام پذیر تھے۔»

اس ملاقات میں دونوں طرف سے مناظرے اور مکالمے ہوئے، اور مولوی حامد حسین کو یہ معلوم نہ ہوا کہ ان کے ہم کلام مولانا محمد قاسم ہیں۔

 

واللہ اعلم بالصواب۔ لیکن یہ ٹھیک طرح معلوم نہیں ہے کہ یہ ملاقات کہاں انجام پائی۔ یہ بعید نظر آتا ہے کہ یہ ملاقات لکھنؤ میں ہوئی ہو۔ تاہم قرائن اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انہوں نے مولوی حامد حسین سے میرٹھ یا سہارنپور میں ملاقات کی ہوگی، یا یہ کہ مولوی حامد حسین کسی کام سے دہلی آئے ہوں اور «والا حضرت» (ان کی خدمت میں) گئے ہوں۔

 

اس ملاقات میں دونوں طرف سے مناظرے اور مکالمے ہوئے، اور مولوی حامد حسین کو یہ معلوم نہ ہوا کہ ان کے ہم کلام مولانا محمد قاسم ہیں؛ کیونکہ انہوں نے اپنے مشہور نام کے بجائے اپنا تاریخی نام یعنی «خورشید حسن» بتایا تھا۔ جیسا کہ شاہ عبدالعزیز نے بھی «تحفہ اثنا عشری» میں اپنا نام «غلام حلیم» بتایا جو ان کا تاریخی نام ہے۔ بہر حال، بزرگوں کی سنت کی پیروی کو سعادت سمجھنا چاہیے، اور وہ ان کے لیے حاصل تھی۔

 

**کلیدی الفاظ:**

علامہ میر حامد حسین – یادداشتیں – مناظرہ – علمی مقام

علامہ میر حامد حسین کتاب «مرآة الکتب» میں

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تحقیقی منابع

احیائے عبقات الأنوار میں حدیثِ ولایت کے محقق کا مقدمہ

حدیثِ ولایت وہ تیسری حدیث ہے جسے عبدالعزیز دہلوی نے کتاب «تحفۂ اثنا عشریہ» کے باب ہفتم میں موضوعِ بحث بنایا ہے۔ چونکہ یہ حدیث جناب امیر المؤمنین علیہ السلام کی بلا فصل خلافت و امامت پر صریح نصوص میں سے ہے، اس لیے اس کے انکار اور ابطال کے سوا اسے کوئی چارہ نظر نہیں آیا۔

تحقیقی منابع

حدیثِ غدیر پر ایک مختصر نظر – عبقات الأنوار میں

تاریخ کے دوران حدیثِ غدیر کے بارے میں بہت سی بحثیں ہوئیں، لیکن عبقات الأنوار کی تصنیف سے پہلے کوئی ایسا اثر نہیں ملتا جو اس حدیث کے تمام پہلوؤں کو تفصیل سے بیان کرے اور اہلِ سنت کی طرف سے اس کے سند اور دلالت کے بارے میں پیش کی گئی مختلف شبہات کا جواب دے۔ کیونکہ علامہ میر حامد حسین ہندی کی کوششیں صرف عبد العزیز دہلوی کے اعتراضات کے جواب تک محدود نہیں تھیں، بلکہ انہوں نے شبہات کی جڑوں کا سراغ لگا کر دہلوی کی عبارات کو ذریعہ بنایا اور ان کے ذریعے اہلِ سنت کے سابقہ علماء کے بیانات کو پیش کر کے ان پر تنقید کی، اور اس طرح ایک جامع اور مضبوط علمی اثر چھوڑا۔ اللہ ان پر رحم فرمائے اور انہیں بہترین مقام عطا کرے۔

اسلایدر اردو

نورالانوار ترجمہ عبقات الانوار» کی چھٹی جلد شائع ہوگئی

علامہ میر حامد حسین موسوی ہندیؒ کے عظیم علمی شاہکار «عبقاتُ الانوار فی إمامۃ الائمۃ الاطہار» کے اردو ترجمے پر مشتمل مجموعے «نورُالانوار» کی چھٹی جلد شائع ہوگئی ہے۔ اس نئی جلد میں حدیثِ منزلت سے متعلق عبقاتُ الانوار کی علمی اور تحقیقی مباحث کو اردو زبان میں پیش کیا گیا ہے۔

نوٹس

عبقات الأنوار» کے «منہجِ آیات» کا ازسرِنو مطالعہ

عبقات الأنوار کے مختلف حصوں میں اس کا «پہلا منہج» مسئلۂ امامت کی تبیین میں بنیادی مقام رکھتا ہے۔ یہ حصہ، جو عام طور پر «آیات» کے عنوان سے معروف ہے، پہلی نظر میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ صرف امامت پر دلالت کرنے والی آیات کے جائزے کے لیے مختص ہے؛ لیکن عبقات کی ساخت کا زیادہ دقیق مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ تصور نامکمل اور کسی حد تک نادرست ہے۔

Scroll to Top