علامہ میر حامد حسین لکھنوی (ره) کی بین الاقوامی کانفرنس کی پیش نشست اصفہان میں منعقد ہوگی

چکیده: علامہ میر حامد حسین موسوی لکھنوی، قرنِ سیزدہم کے ممتاز امامی متکلم، کی بزرگداشت کی پیش نشست روزِ پنجشنبہ 4 دی 1404 کو حوزہ علمیہ اصفہان میں منعقد ہوگی۔

 

علامہ میر حامد حسین لکھنوی (ره) کی بین الاقوامی کانفرنس کی پیش نشست اصفہان میں منعقد ہوگی

علامہ میر حامد حسین موسوی لکھنوی، قرنِ سیزدہم کے ممتاز امامی متکلم، کی بزرگداشت کی پیش نشست روزِ پنجشنبہ 4 دی 1404 کو حوزہ علمیہ اصفہان میں منعقد ہوگی۔

یہ تقریب بنیاد بین‌المللی امامت، مؤسسہ آموزش عالی حوزہ علمیہ اصفہان، اور سیکریٹریٹِ کنگرۂ بین‌المللی بزرگداشتِ علامہ میر حامد حسین لکھنوی جیسے اداروں کی شمولیت کے ساتھ، اور “بازشناخت و نکوداشتِ صاحب عبقات” کے عنوان سے، شیخ‌الرئیس ابن‌سینا ہالِ کانفرنس میں منعقد ہوگی، جو مؤسسہ آموزش عالی حوزہ علمیہ اصفہان کی جامع عمارت میں واقع ہے۔

اس پیش نشست کے پروگرام حسبِ ذیل ہیں:

صبح کی نشست (آغاز: 8:30)

8:30–8:40: تلاوتِ قرآنِ کریم

8:40–9:00: مدیرِ مؤسسہ کی خیرمقدمی گفتگو

9:00–9:15: رئیسِ حوزہ علمیہ اصفہان کے پیغام کی قرائت

9:15–10:00: علمی میزگرد “احیائے آثارِ علامہ میر حامد حسین” بحضور حجج الاسلام اساتید کاظمی، اسفندیاری، اور شجاعت حسین

10:00–10:30: ضیافت

10:30–11:15: حضرت آیت اللہ حاج شیخ نجم الدین طبسی کا خطاب بعنوان “شخصیت‌شناسی علمی (فقہی و کلامی) علامہ میر حامد حسین”

11:15: صبح کے حصے کے اختتام کا اعلان

بعد از دوپہر نشست

15:00–15:30: حجت الاسلام والمسلمین رضا مختاری کا خطاب بعنوان “تراثِ علامہ میر حامد حسین سے چند باتیں”

15:30–16:00: حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر محمدتقی سبحانی کا خطاب بعنوان “تراثِ علامہ میر حامد حسین کا احیا اور علمِ کلامِ امامی کا مستقبل”

16:00: پروگرام کے اختتام کا اعلان

اس تقریب کے حاشیے میں، مؤسسہ کی کتابفروشی، بنیاد بین‌المللی امامت کی تحقیقی آثار کو خصوصی رعایت کے ساتھ پیش کرتے ہوئے، دوبارہ کھولی جائے گی۔

پتہ:

خیابان حکیم، کوچه نمبر 13، شہید عابدینی‌زاده بن‌بست کے کونے پر، مؤسسہ آموزش عالی حوزہ علمیہ اصفہان کی جامع عمارت۔

اس باوقار تقریب میں دلچسپی رکھنے والوں، طلاب، محققین اور اہل بیت علیہم السلام کے معارف کے اساتذہ کی شرکت کی شدید سفارش کی جاتی ہے۔

علامہ میر حامد حسین لکھنوی کے بارے میں ایک طویل ناول کے خاکے کا جائزہ لینے کے لیے نشست منعقد ہوئی

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تحقیقی منابع

حدیثِ غدیر پر ایک مختصر نظر – عبقات الأنوار میں

تاریخ کے دوران حدیثِ غدیر کے بارے میں بہت سی بحثیں ہوئیں، لیکن عبقات الأنوار کی تصنیف سے پہلے کوئی ایسا اثر نہیں ملتا جو اس حدیث کے تمام پہلوؤں کو تفصیل سے بیان کرے اور اہلِ سنت کی طرف سے اس کے سند اور دلالت کے بارے میں پیش کی گئی مختلف شبہات کا جواب دے۔ کیونکہ علامہ میر حامد حسین ہندی کی کوششیں صرف عبد العزیز دہلوی کے اعتراضات کے جواب تک محدود نہیں تھیں، بلکہ انہوں نے شبہات کی جڑوں کا سراغ لگا کر دہلوی کی عبارات کو ذریعہ بنایا اور ان کے ذریعے اہلِ سنت کے سابقہ علماء کے بیانات کو پیش کر کے ان پر تنقید کی، اور اس طرح ایک جامع اور مضبوط علمی اثر چھوڑا۔ اللہ ان پر رحم فرمائے اور انہیں بہترین مقام عطا کرے۔

اسلایدر اردو

نورالانوار ترجمہ عبقات الانوار» کی چھٹی جلد شائع ہوگئی

علامہ میر حامد حسین موسوی ہندیؒ کے عظیم علمی شاہکار «عبقاتُ الانوار فی إمامۃ الائمۃ الاطہار» کے اردو ترجمے پر مشتمل مجموعے «نورُالانوار» کی چھٹی جلد شائع ہوگئی ہے۔ اس نئی جلد میں حدیثِ منزلت سے متعلق عبقاتُ الانوار کی علمی اور تحقیقی مباحث کو اردو زبان میں پیش کیا گیا ہے۔

نوٹس

عبقات الأنوار» کے «منہجِ آیات» کا ازسرِنو مطالعہ

عبقات الأنوار کے مختلف حصوں میں اس کا «پہلا منہج» مسئلۂ امامت کی تبیین میں بنیادی مقام رکھتا ہے۔ یہ حصہ، جو عام طور پر «آیات» کے عنوان سے معروف ہے، پہلی نظر میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ صرف امامت پر دلالت کرنے والی آیات کے جائزے کے لیے مختص ہے؛ لیکن عبقات کی ساخت کا زیادہ دقیق مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ تصور نامکمل اور کسی حد تک نادرست ہے۔

نوٹس

«عبقات الأنوار» میں «حدیثِ غدیر» کا ازسرِنو مطالعہ

مسئلۂ امامت سے متعلق نصوص میں حدیثِ غدیر ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ یہ حدیث، جو مشہور عبارت «من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ» کے ساتھ نقل ہوئی ہے، ان روایات میں سے ہے جو تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلمان علماء کی وسیع توجہ کا مرکز رہی ہے۔ تاہم، اس حدیث کا جامع اور منظم جائزہ مختلف مصادر میں وسیع تتبع اور اس کی سند و دلالت کے دقیق تجزیے کا تقاضا کرتا ہے۔

Scroll to Top