گنجینہ دانشمندان میں علامہ میر حامد حسین

چکیده: علامہ میر حامد حسین نہایت بلند مقام کے حامل تھے۔ نقل ہے کہ ان کی وفات کے بعد ایک نیک بندے نے خواب میں دیکھا کہ قیامت برپا ہے، رسول خدا (ص) منبر پر جلوہ افروز ہیں اور علامہ ایک زینہ نیچے تشریف فرما ہیں، گناہگاروں کے لیے شفاعت کر رہے ہیں اور رسول خدا ان کی شفاعت قبول فرما رہے ہیں۔

گنجینہ دانشمندان میں علامہ میر حامد حسین

 

«گنجینہ دانشمندان» کا تعارف

محمد شریف رازی (1922ء – 2000ء) کی یہ نو جلدوں پر مشتمل کتاب، شیعہ علماء کے حالاتِ زندگی، شہروں کی تاریخ، کتب خانوں اور ایران کے دینی مدارس کے بارے میں ایک اہم حوالہ ہے۔

 

لکھنؤ

ہندوستان کا ایک اہم علمی و دینی شہر، جو اپنے متنوع علمی ماحول کے لیے جانا جاتا ہے۔ علامہ میر حامد حسین صاحبِ «عبقات الانوار» کا کتب خانہ اس شہر کے اہم ترین علمی اثاثوں میں سے ہے۔

 

علامہ میر حامد حسین کا تعارف

مجاہدِ کبیر علامہ سید میر حامد حسین (ولادت: 1830ء، وفات: 1888ء) امامیہ کے اکابر متکلمین میں سے ہیں۔ آپ کتابِ نفیس «عبقات الانوار فی مناقب ائمه الاطهار» اور «استقصاء الإفحام» کے مؤلف ہیں۔ آپ نے تشیع کے دفاع میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور علامہ امینی اور صاحبِ «الذریعة» جیسے اکابرین نے آپ کی بے حد تعریف کی ہے۔

 

نایاب کتاب کے حصول کا واقعہ

کہا جاتا ہے کہ علامہ کو معلوم ہوا کہ شاہ عبد العزیز دہلوی کی کتاب «تحفه اثنی عشریه» کے رد کے لیے درکار ایک کتاب، مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع گاؤں «رابوق» کے ایک عالم کے پاس ہے۔ حج کے بعد علامہ نے وہاں سفر کیا اور ایک مسافر کے بھیس میں اس عالم کے پاس قیام کیا۔ اپنی انتھک محنت اور صبر سے راتوں کو پوری کتاب کی نقل تیار کر لی۔ جب وہ عالم اس واقعے سے آگاہ ہوا تو علامہ کے عزم و استقامت سے حیران رہ گیا اور اسی صدمے میں وفات پا گیا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تحقیقی منابع

احیائے عبقات الأنوار میں حدیثِ ولایت کے محقق کا مقدمہ

حدیثِ ولایت وہ تیسری حدیث ہے جسے عبدالعزیز دہلوی نے کتاب «تحفۂ اثنا عشریہ» کے باب ہفتم میں موضوعِ بحث بنایا ہے۔ چونکہ یہ حدیث جناب امیر المؤمنین علیہ السلام کی بلا فصل خلافت و امامت پر صریح نصوص میں سے ہے، اس لیے اس کے انکار اور ابطال کے سوا اسے کوئی چارہ نظر نہیں آیا۔

تحقیقی منابع

حدیثِ غدیر پر ایک مختصر نظر – عبقات الأنوار میں

تاریخ کے دوران حدیثِ غدیر کے بارے میں بہت سی بحثیں ہوئیں، لیکن عبقات الأنوار کی تصنیف سے پہلے کوئی ایسا اثر نہیں ملتا جو اس حدیث کے تمام پہلوؤں کو تفصیل سے بیان کرے اور اہلِ سنت کی طرف سے اس کے سند اور دلالت کے بارے میں پیش کی گئی مختلف شبہات کا جواب دے۔ کیونکہ علامہ میر حامد حسین ہندی کی کوششیں صرف عبد العزیز دہلوی کے اعتراضات کے جواب تک محدود نہیں تھیں، بلکہ انہوں نے شبہات کی جڑوں کا سراغ لگا کر دہلوی کی عبارات کو ذریعہ بنایا اور ان کے ذریعے اہلِ سنت کے سابقہ علماء کے بیانات کو پیش کر کے ان پر تنقید کی، اور اس طرح ایک جامع اور مضبوط علمی اثر چھوڑا۔ اللہ ان پر رحم فرمائے اور انہیں بہترین مقام عطا کرے۔

اسلایدر اردو

نورالانوار ترجمہ عبقات الانوار» کی چھٹی جلد شائع ہوگئی

علامہ میر حامد حسین موسوی ہندیؒ کے عظیم علمی شاہکار «عبقاتُ الانوار فی إمامۃ الائمۃ الاطہار» کے اردو ترجمے پر مشتمل مجموعے «نورُالانوار» کی چھٹی جلد شائع ہوگئی ہے۔ اس نئی جلد میں حدیثِ منزلت سے متعلق عبقاتُ الانوار کی علمی اور تحقیقی مباحث کو اردو زبان میں پیش کیا گیا ہے۔

نوٹس

عبقات الأنوار» کے «منہجِ آیات» کا ازسرِنو مطالعہ

عبقات الأنوار کے مختلف حصوں میں اس کا «پہلا منہج» مسئلۂ امامت کی تبیین میں بنیادی مقام رکھتا ہے۔ یہ حصہ، جو عام طور پر «آیات» کے عنوان سے معروف ہے، پہلی نظر میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ صرف امامت پر دلالت کرنے والی آیات کے جائزے کے لیے مختص ہے؛ لیکن عبقات کی ساخت کا زیادہ دقیق مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ تصور نامکمل اور کسی حد تک نادرست ہے۔

Scroll to Top